کراچی: پولیس نے طالب علم کو شارٹ ٹرم اغوا کے بعد 50 ہزار لےکر چھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
کراچی میں سکھن پولیس پر طالب علم کے مبینہ شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے سنگین الزامات سامنے آنے پر سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ملیر نے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔
شاہ لطیف ٹاؤن کے رہائشی متاثرہ طالبعلم حسنین نے الزام لگایا ہے کہ سکھن پولیس کی تین موبائلیں رات گئے اس کے گھر آئیں اور اسے تھانے لے جایا گیا، جہاں 10 لاکھ اور پھر 5 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔
ملزمان نے خود کو اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل کا اہل کار بتایا اور گاڑی کے مالک کو گاڑی سمیت اغوا کرلیا۔
حسنین کے مطابق اہلکاروں نے 50 ہزار روپے لے کر صبح 6 بجے چھوڑ دیا جبکہ اس کا موبائل فون، پرس اور چابیاں تا حال تھانے میں موجود ہیں۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ رقم لینے سے متعلق انہیں علم نہیں، اہلکار جبار کو بلا کر پوچھ گچھ کی جائے گی، جبکہ متاثرہ نوجوان کے تھانے آنے پر سامان بھی واپس کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب ویڈیو وائرل ہونے پر ایس ایس پی ملیر ڈاکٹر عبدالخالق نے نوٹس لیتے ہوئے واقعے کی اعلیٰ سطح اور شفاف انکوائری کا حکم دے دیا ہے، جس کی ذمہ داری ایس پی ملیر کو سونپ دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔