تل ابیب کے مرکز "کریا" تک ایران کا اثرورسوخ
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
اسلام ٹائمز: وادیم کاپریانف نے دوران تفتیش بتایا کہ ایران کے انٹیلی جنس افسران نے اسے ایک ایسا کیمرہ خریدنے کا حکم دیا جو گاڑی پر نصب ہو سکتا تھا اور اس کے ذریعے مطلوبہ شخص کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔ یاد رہے "کریا" کا علاقہ تل ابیب کے مرکز میں واقع ہے اور صیہونی رژیم کی حکومتی اور سیکورٹی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے۔ یہ علاقہ 1948ء میں تعمیر کیا گیا تھا اور اپنی تعمیر کے آغاز سے ہی اسرائیلی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کا حامل ہے۔ مزید برآں، "رابین چھاونی" بھی اسی علاقے میں واقع ہے۔ صہپونی کابینہ کے اجلاس بھی اسی علاقے میں منعقد کیے جاتے ہیں اور یہاں زیر زمین اڈے بھی بنائے گئے ہیں جنہیں "گڑھا" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس مرکز میں کئی منزلہ زیر زمین عمارت موجود ہے اور وہاں شدید حفاظتی اقدامات انجام دیے گئے ہیں۔ تحریر: مہرزاد اصغریان
صیہونی حلقوں میں ایران کے سائبر اثرورسوخ سے متعلق رپورٹس منظرعام پر آنے نیز حنظلہ گروپ (ہیکر گروپ) کی سابق اسرائیلی وزیراعظم کے موبائل فون تک رسائی فاش ہو جانے کے بعد صیہونی رژیم کے سیکورٹی ذرائع نے ایک ایسے شخص کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے جس نے نہ صرف نیفتالی بینت کے گھر کی ویڈیوز بنائی تھیں بلکہ ایران کے جاسوس کے طور پر "کریا" میں واقع اسرائیل کی وزارت جنگ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب رہا اور وہاں کافی عرصے تک جاسوسی سرگرمیاں بھی انجام دیتا رہا تھا۔ غاصب صیہونی رژیم کے مختلف ذرائع نے گذشتہ چند سالوں کے دوران صیہونی حکام کی جاسوسی سے متعلق بارہا اطلاع دی ہے۔ ایسے وقت جب اکتوبر 2026ء میں مقبوضہ فلسطین میں نئے پارلیمانی الیکشن کا انعقاد ہونے والا ہے اور نیفتالی بینت بھی اقتدار میں واپسی کے لیے ہاتھ پاوں مار رہا ہے، وہ جاسوسی اسکینڈل کا شکار ہو گیا ہے۔
تقریباً ایک ہفتہ قبل، ہیکر گروپ "حنظلہ" نے نیفتالی بینت کے موبائل فون تک رسائی حاصل کر کے اس میں موجود تمام فون نمبرز کی فہرست جاری کر دی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی کا نام بھی شامل تھا۔ جمعرات کے دن بھی اسرائیل کی داخلہ سیکورٹی ایجنسی شاباک نے دعوی کیا کہ اس نے ریشون لیتسیون نامی شہر سے ایک یہودی آبادکار کو گرفتار کیا ہے جس پر ایران کے لیے جاسوسی سرگرمیاں انجام دینے کا الزام ہے۔ اس پر نیفتالی بینت کے گھر کی ویڈیوز بنانے کا الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے۔ صیہونی خبری ذرائع کے مطابق یہ شخص "کریا" میں واقع اسرائیل کی وزارت جنگ کے ہیڈکوارٹر میں بھی داخل ہوا اور وہاں ایران کے لیے جاسوسی سرگرمیاں انجام دیتا رہا جبکہ وہ اسرائیل کے چیف آف آرمی اسٹاف ایال ضمیر سے ملاقات بھی کر چکا ہے۔
ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہونے والے اس شخص کا نام وادیم کاپریانف بتایا گیا ہے اور عنقریب لود شہر کی مقامی عدالت میں اس کے خلاف عدالتی کاروائی کا آغاز ہونے والا ہے۔ نیفتالی بینت نے اس شخص کی گرفتاری پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایک پریس ریلیز جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے: "ایران کی جانب سے مجھے نقصان پہنچانے کی کوششیں مجھے اپنی زندگی کا مشن انجام دینے سے روک نہیں سکیں گی۔" صیہونی رژیم کے سیکورٹی ذرائع کے بقول وادیم کاپریانف ایران کے انٹیلی جنس افسران سے رابطے میں تھا اور گذشتہ دو ماہ کے دوران وہ ان سے پیسے لے کر جاسوسی سرگرمیاں انجام دیتا رہا ہے۔ وہ رعانانا شہر میں نیفتالی بینت کی رہائشگاہ کے قریب والی عمارتوں کی تصاویر بناتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اس نے دوران تفتیش ایران کے لیے جاسوسی کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔
وادیم کاپریانف نے دوران تفتیش بتایا کہ ایران کے انٹیلی جنس افسران نے اسے ایک ایسا کیمرہ خریدنے کا حکم دیا جو گاڑی پر نصب ہو سکتا تھا اور اس کے ذریعے مطلوبہ شخص کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکتی تھی۔ یاد رہے "کریا" کا علاقہ تل ابیب کے مرکز میں واقع ہے اور صیہونی رژیم کی حکومتی اور سیکورٹی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے۔ یہ علاقہ 1948ء میں تعمیر کیا گیا تھا اور اپنی تعمیر کے آغاز سے ہی اسرائیلی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر کا حامل ہے۔ مزید برآں، "رابین چھاونی" بھی اسی علاقے میں واقع ہے۔ صہپونی کابینہ کے اجلاس بھی اسی علاقے میں منعقد کیے جاتے ہیں اور یہاں زیر زمین اڈے بھی بنائے گئے ہیں جنہیں "گڑھا" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس مرکز میں کئی منزلہ زیر زمین عمارت موجود ہے اور وہاں شدید حفاظتی اقدامات انجام دیے گئے ہیں۔
کریا کے علاقے میں موجود ان حساس سیکورٹی مراکز کو جوہری اور حیاتیاتی حملوں سے بھی محفوظ بنایا گیا ہے۔ اس علاقے کی اہمیت ایران پر اسرائیل کی 12 روزہ فوجی جارحیت کے دوران اس وقت ہر وقت سے زیادہ ابھر کر سامنے آئی تھی جب صیہونی ذرائع ابلاغ نے انتہائی محدود پیمانے پر ایسی تصاویر شائع کیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ ایران نے اس علاقے کو شدید میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں بعض اونچے ٹاور اور کئی منزلہ عمارتیں بھی مکمل طور پر زمین بوس ہو چکی تھیں۔ عبرانی اخبار اسرائیل ہیوم نے 12 روزہ جنگ کے دوران اس بارے میں ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں انتہائی اہم حقائق کا اعتراف کیا گیا تھا اور اس سے بخوبی ایران کی میزائل طاقت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔
اسرائیل ہیوم کی رپورٹ میں کہا گیا تھا: "جب جمعے کے دن ایران نے اسرائیل پر میزائل حملوں کا آغاز کیا تو سب کے لیے واضح ہو گیا کہ اس بار ہم کسی گوریلا گروہ سے روبرو نہیں ہیں بلکہ ایک ایسی ریاست نے ہم پر حملہ کیا ہے جو عظیم جارحانہ صلاحیتوں کی مالک ہے۔ لہذا ایسی جنگ میں اسٹریٹجک اہداف بھی یقینی طور پر نشانہ بنتے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم ترین مرکز "کریا" کے نام سے معروف اسرائیل کی وزارت جنگ اور مرکزی فوجی ہیڈکوارٹر بھی تھا اور اس پر میزائل لگنے کی ویڈیو سب نے لائیو دیکھی تھی۔" اس عبرانی اخبار نے مزید لکھا: "ایرانی بہت اچھی طرح اس علاقے کی اہمیت سے واقف تھے اور مستقبل میں یہ معلوم ہو گا کہ آیا یہ ایک تاریخی غلطی تھی یا ایک ایسی حقیقت ہے جسے برداشت کرنا اور نقصان اٹھانا ہماری مجبوری بن چکا ہے۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کے لیے جاسوسی بھی اسی علاقے میں جاسوسی سرگرمیاں صیہونی رژیم میں واقع ہے اسرائیل کی تھا اور اس کہ ایران اور وہاں گیا تھا کے مرکز گئے ہیں شخص کی سے ایک ہے اور گیا ہے
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔