پی ٹی آئی چاہتی ہے ’گڈ ٹو سی یو‘ والا دور واپس آئے لیکن ایسا نہیں ہوگا، طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے ’گڈ ٹو سی یو‘ والا دورہ واپس آئے لیکن ایسا نہیں ہوگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی میں جو لوگ مذاکرات کی بات کررہے ہیں وہ بھی پراعتماد نہیں کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کا کیا ردعمل ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: جمہوریت کا فروغ ڈائیلاگ سے ہوتا ہے ڈیڈلاک سے نہیں، ن لیگ کی پی ٹی آئی کے رویے پر تنقید
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی بات چیت کے لیے اسپیکر کے پاس آئے، وہاں ایجنڈا سیٹ ہوگا اور پھر بات چیت ہوگی، لیکن مذاکرات صرف پاکستان اور پاکستان کے مسائل پر ہوں گے۔
طلال چوہدری نے کہاکہ یہ اقتدار میں نہیں اس لیے اس نظام کے خلاف ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ ’گڈ ٹو سی یو‘ والا دور واپس آئے لیکن ایسا نہیں ہوگا۔
وفاقی وزیر مملکت نے کہاکہ الیکشن ہو چکے ہیں اور حکومت چل رہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی والے جب بھی پنجاب میں آتے ہیں تو طوفان بدتمیزی کرتے ہیں، کیا سہیل آفریدی کے دورہ لاہور پر لبرٹی چوک میں بندے بھی حکومت لا کر دیتی۔
انہوں نے کہاکہ خیبرپختونخوا حکومت کو اربوں روپے ملے، کیا ان سے یہ سوال نہیں ہو سکتا کہ یہ رقم پر کہاں پر لگائی گئی؟
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی چیئرمین نے وزیراعظم سے ملاقات اور مذاکرات کے دعوے کی تردید کر دی
ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کو بھی اتنے ہی پیسے مل رہے ہیں جتنے کے پی کو ملتے ہیں، بلکہ خیبرپختونخوا کو انسداد دہشتگردی کے لیے اربوں روپے اضافی دیے گئے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پی ٹی آئی طلال چوہدری گڈ ٹو سی یو وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی طلال چوہدری گڈ ٹو سی یو وی نیوز انہوں نے کہاکہ کہ پی ٹی ا ئی طلال چوہدری
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔