ملائیشیا کے آرمی چیف پر کرپشن کے الزامات، جبری رخصت پر بھیج دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوالالمپور: ملائیشیا کے آرمی چیف جنرل تن سری محمد حافظ الدین جنتن کو کرپشن اور منی لانڈرنگ الزامات کی تحقیقات تک رخصت پر بھیج دیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کی وزارتِ دفاع نے آرمی چیف جنرل تن سری محمد حافظ الدین جنتن کو فوری طور پر رخصت پر بھیجنے کی ہدایت جاری کر دی۔
مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ یہ معاملہ تب شروع ہوا جب سماجی کارکن بدر الحشام شہران المعروف چیگو برد نے مسلح افواج کے ایک سینئر افسر پر منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے۔جس کے بعد ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن (ایم اے سی سی) کے سربراہ تن سری اعظم باقی نے بھی تصدیق کی کہ ایکٹ 2009 کی دفعہ 17(a) کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔
ایم اے سی سی کے افسران نے فوج کے تحت ہونے والے پروکیورمنٹ منصوبوں خصوصاً اوپن ٹینڈر کے ذریعے کیے گئے منصوبوں کی باریکی سے جانچ پڑتال کی۔جانچ پڑتال میں 2023 سے 2025 کے درمیان 5 لاکھ رنگٹ سے زائد مالیت کے 158 منصوبے اور اس حد سے کم مالیت کے 4,521 منصوبے سامنے آئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔