واٹر سیکیورٹی پاکستان کی معاشی و موسمیاتی بقا سے جڑی ہے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ واٹر سیکیورٹی پاکستان کی معاشی اور موسمیاتی بقا سے جڑی ہے۔
وزارت منصوبہ بندی کے اعلامیے کے مطابق احسن اقبال کی صدارت اجلاس ہوا، جس میں بتایا گیا کہ ایم ایل ون کراچی روہڑی سیکشن پر ابتدائی کام جولائی میں شروع ہونے کاامکان ہے۔
اعلامیے کے مطابق اجلاس میں ایم ایل ون، ایم ایل تھری اور تھر کول ریلوے پر پیشرفت کا جائزہ لیا جبکہ 884 کلومیٹر ریلوے کے ایم ایل تھری منصوبے پر بریفنگ دی گئی۔
اعلامیےکے مطابق تھر کول ریلوے منصوبے کی لاگت 53 ارب 70 کروڑ روپے ہے، تھر کول ریلوے منصوبے کی تکمیل جون 2026 تک متوقع ہے۔
اعلامیے کے مطابق سکھر حیدرآباد موٹروے کو ترجیحی بنیادوں پر 3 سال میں مکمل کرنے، قراقرم ہائی وے فیز ٹو پر کام تیز کر کے 2028 تک مکمل کرنے اور سمبڑیال، کھاریاں، راولپنڈی موٹر وے پر تیز رفتار عمل درآمد کی ہدایات کیں۔
اعلامیے کے مطابق بلوچستان میں ایم ایٹ موٹروے کو ترجیحی منصوبہ قرار دیا گیا، پی ایس ڈی پی کے تحت پانی کے شعبے کے 34 بڑے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق پی ایس ڈی پی میں آبی منصوبوں پر لاگت کا تخمینہ 1848 ارب روپے ہے، بڑے آبی منصوبوں میں کے فور، داسو، دیامر بھاشا، مہمند اور تربیلا توسیع منصوبے شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق کراچی کے لیے کے فور پانی منصوبہ اہم شہری ضرورت قرار دیا۔
دوران اجلاس احسن اقبال نے کہا کہ قومی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معیار کو ترجیح دی جائے، منصوبوں میں رکاوٹوں کی بروقت نشاندہی اور حل ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی اور صنعت کےلیے تھر کول ریلوے منصوبہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے، مہمند ڈیم پانی، سیلاب کنٹرول اور بجلی کے لیے نہایت اہم ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ واٹر سیکیورٹی پاکستان کی معاشی اور موسمیاتی بقا سے جڑی ہے، انفرااسٹرکچر کے ذریعے ترقی حکومت کی قومی ترجیح ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ماشکیل، پنجگور، چادگئی سڑک منصوبے پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی، مربوط منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سے ہی نتائج حاصل ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اعلامیے کے مطابق احسن اقبال ایم ایل
پڑھیں:
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئےفتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 24 مئی کو پیش آنے والے ٹرین واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے اضلاع مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر متعدد آپریشنز کیے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والے پاکستان کے دشمن، ان کی کوئی ناراضی نہیں، رانا ثنااللہ
آئی ایس پی آر کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ شدید اور سخت فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جس سے ان علاقوں میں سرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ مارے گئے دہشتگرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں سرگرم رہے تھے۔
ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، بڑی مقدار میں دھماکا خیز مواد اور تیار شدہ دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈیز) بھی برآمد کیے گئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان علاقوں سے دہشتگردوں کے مکمل خاتمے کے لیے کلیئرنس اور سرچ آپریشنز بدستور جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: علما کرام کی جانب سے بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت، امن اور مکالمے پر زور
بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایس پی آر بلوچستان دہشتگرد ہلاک سیکیورٹی فورسز وی نیوز