وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا لاہور سے اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز، عوامی استقبال اور سیاسی سرگرمیاں تیز
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لاہور سے باقاعدہ اسٹریٹ موومنٹ کا آغاز کر دیا، جہاں مختلف علاقوں میں عوام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ شہر کی گلیوں میں بانی پی ٹی آئی کے حق میں نعرے لگے اور شہریوں نے گل پاشی کے ذریعے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔
نجی نیوز چینل کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے لاہور میں انتہائی مصروف دن گزارا۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ بار میں منعقدہ تقریب سے خطاب کیا، حماد اظہر سمیت پارٹی رہنماؤں کے گھروں پر گئے اور بعد ازاں زمان پارک میں بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان سے ملاقات بھی کی۔
بانی پی ٹی آئی کی ہدایات کے مطابق سہیل آفریدی نے لاہور میں اسٹریٹ موومنٹ کی شروعات کی اور مختلف مقامات پر رک کر عوام سے خطاب کیا۔ اس دوران شہریوں کی جانب سے نعرے بازی اور گل پاشی کی گئی۔ زمان پارک میں ملاقات کے بعد سہیل آفریدی اور علیمہ خان نے مشترکہ پریس گفتگو کی۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس موقع پر کہا کہ زمان پارک آ کر اپنے قائد کے گھر آنے کی خوشی ہے، تاہم خوشی اس وقت مکمل ہوگی جب بانی پی ٹی آئی بھی آزاد ہوں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکمران اقتدار کی خاطر ملک کو نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کر رہے اور مذاکرات کے بجائے محاذ آرائی چاہتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ لاہور ہمیشہ سے بانی پی ٹی آئی کا شہر رہا ہے اور یہاں کے عوام نے ہمیشہ محبت دی ہے، حالانکہ حالیہ دنوں میں جو صورتحال پیدا کی گئی، اس پر انہیں شدید دکھ ہے۔
علیمہ خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زمان پارک کے اطراف سڑکیں بند کر کے خواتین اور بچوں کی نقل و حرکت روکی جا رہی ہے، جس سے خوف اور دباؤ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات عوامی طاقت سے خوف کی علامت ہیں اور ایسے ہتھکنڈوں سے لوگوں کو روکا نہیں جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ صرف آغاز ہے اور جیسے جیسے عوام متحرک ہوں گے، رکاوٹیں بے اثر ہو جائیں گی۔ علیمہ خان کے مطابق بانی پی ٹی آئی کا پیغام واضح ہے کہ عوام اپنے جمہوری حق کے لیے پرامن طور پر سڑکوں پر آئیں۔
اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ بار میں وکلا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ وکلا برادری تحریک انصاف کی اسٹریٹ موومنٹ میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موجودہ حکمرانوں نے نظامِ انصاف کو مفلوج کر دیا ہے اور عدالتی احکامات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئین جلسوں اور احتجاج کا حق دیتا ہے اور تحریک انصاف عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کے مطابق سیاسی جدوجہد کا مقصد جمہوری حقوق کا تحفظ اور عوام کی آواز کو مضبوط بنانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی اسٹریٹ موومنٹ علیمہ خان زمان پارک نے لاہور ہے اور
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔