Juraat:
2026-07-24@06:06:45 GMT

غزہ پر قبضے کے اسرائیلی بیانات سے واشنگٹن ناراض

اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT

غزہ پر قبضے کے اسرائیلی بیانات سے واشنگٹن ناراض

اس قسم کے بیانات مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں،امریکی حکام
عرب ممالک امن عمل سے دور ہونے لگے، وزیر دفاع کے حالیہ بیانات پر ناراضگی کا اظہار

واشنگٹن نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق مسلسل بیانات پر اسرائیل پر سخت تنقید کی ہے اور انہیں اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور عرب ممالک کو ممکنہ امن عمل سے دور کر رہے ہیں۔اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اعلیٰ سطحی ذرائع نے اسرائیلی حکومت، خصوصاً وزیر دفاع یسرائیل کاتز کے حالیہ بیانات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔وائٹ ہاؤس سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں اور علاقائی تعاون کو متاثر کر رہے ہیں۔یسرائیل کاتز نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں آبادکاری کے مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم امریکی اعتراض کے بعد انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد عارضی فوجی رہائشی مراکز تھے۔ اس کے باوجود بعد ازاں انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے کبھی مکمل طور پر پیچھے نہیں ہٹے گی۔یہ بیانات وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مؤقف سے ہم آہنگ سمجھے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی سیاسی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کا ارادہ ہے کہ وہ امریکی صدر سے ملاقات میں اسرائیل اور غزہ کے درمیان ایک مستقل سرحد کی منظوری حاصل کریں، جس کے تحت غزہ کے بڑے حصے پر اسرائیلی کنٹرول قائم رکھا جائے گا۔نیتن یاہو کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے غزہ میں فوجی موجودگی میں اضافے کو سکیورٹی کی ضرورت قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول غزہ کا رقبہ حالیہ عرصے میں مزید بڑھ چکا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ نے مغربی کنارے میں نئی بستیوں کی تعمیر پر 14 ممالک کی جانب سے ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعتراضات جانبدارانہ اور امتیازی نوعیت کے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: یہ بیانات رہے ہیں

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم