غزہ پر قبضے کے اسرائیلی بیانات سے واشنگٹن ناراض
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
اس قسم کے بیانات مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں،امریکی حکام
عرب ممالک امن عمل سے دور ہونے لگے، وزیر دفاع کے حالیہ بیانات پر ناراضگی کا اظہار
واشنگٹن نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سے متعلق مسلسل بیانات پر اسرائیل پر سخت تنقید کی ہے اور انہیں اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور عرب ممالک کو ممکنہ امن عمل سے دور کر رہے ہیں۔اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اعلیٰ سطحی ذرائع نے اسرائیلی حکومت، خصوصاً وزیر دفاع یسرائیل کاتز کے حالیہ بیانات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔وائٹ ہاؤس سے منسلک ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ امن منصوبے کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں اور علاقائی تعاون کو متاثر کر رہے ہیں۔یسرائیل کاتز نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں آبادکاری کے مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم امریکی اعتراض کے بعد انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد عارضی فوجی رہائشی مراکز تھے۔ اس کے باوجود بعد ازاں انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ سے کبھی مکمل طور پر پیچھے نہیں ہٹے گی۔یہ بیانات وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے مؤقف سے ہم آہنگ سمجھے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی سیاسی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کا ارادہ ہے کہ وہ امریکی صدر سے ملاقات میں اسرائیل اور غزہ کے درمیان ایک مستقل سرحد کی منظوری حاصل کریں، جس کے تحت غزہ کے بڑے حصے پر اسرائیلی کنٹرول قائم رکھا جائے گا۔نیتن یاہو کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہوں نے غزہ میں فوجی موجودگی میں اضافے کو سکیورٹی کی ضرورت قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول غزہ کا رقبہ حالیہ عرصے میں مزید بڑھ چکا ہے۔دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ نے مغربی کنارے میں نئی بستیوں کی تعمیر پر 14 ممالک کی جانب سے ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اعتراضات جانبدارانہ اور امتیازی نوعیت کے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔