مرحوم سرکاری ملازمین کے کوٹے سے متعلق سندھ حکومت کی درخواستیں مسترد
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے مرحوم سرکاری ملازمین کے کوٹے سے متعلق سندھ حکومت کی درخواستیں مسترد کر دیں۔
جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس صلاح الدین پنہور نے کیس پر سماعت کی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے تین رکنی بینچ کا تفصیلی فیصلہ تحریر کیا۔
سپریم کورٹ نے مرحوم کوٹہ کے تحت ملازمت سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے برقرار رکھ دیے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ جو مقدمات پہلے ہی نمٹ چکے ہیں، انہیں دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہائی کورٹ کے احکامات میں کوئی قانونی سقم موجود نہیں، مرحوم کوٹہ سے متعلق فیصلے حتمی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، مرحوم کوٹہ سے متعلق قوانین کی منسوخی کے فیصلے کو ماضی پر لاگو نہیں کیا جائے۔
عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دیے کہ جنرل پوسٹ آفس کیس کا فیصلہ سابقہ نمٹائے گئے مقدمات پر لاگو نہیں ہوگا، عدالتی فیصلے اصولاً مستقبل پر لاگو ہوتے ہیں، جب تک ماضی پر اطلاق واضح نہ کیا جائے۔
سندھ ہائی کورٹ نے مرحوم سرکاری ملازمین کے ورثا کو ملازمت دینے کے احکامات جاری کیے تھے۔ ہائی کورٹ نے 2019 سے 2023 کے درمیان مرحوم کوٹہ کے تحت ورثا کو ملازمت دینے کے احکامات دیے تھے۔
سندھ حکومت نے مرحوم کوٹہ پر تقرریوں کے احکامات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل سپریم کورٹ مرحوم کوٹہ کے احکامات ہائی کورٹ کورٹ نے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔