افغانستان کسی کے لیے خطرہ نہیں، بات چیت کا راستہ کھلا ہے: سراج الدین حقانی
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ افغانستان کسی بھی ریاست کے لیے خطرہ نہیں اور موجودہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ کھلا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق کابل پولیس اکیڈمی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سراج الدین حقانی نے کہا کہ مسائل کا حل تصادم میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے اور افغان حکومت اس حوالے سے سنجیدہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، افغان طالبان دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں پر قائم ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔
افغان طالبان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق انہوں نے عالمی برادری کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ افغانستان خطے میں عدم استحکام کا سبب بننے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
دوسری طرف زمینی حقائق یہ ہیں کہ ماضی میں دی جانے والی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان میں سرحد پار سے دراندازی اور حملوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جس پر اسلام آباد مسلسل تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے۔
سراج الدین حقانی نے اپنے خطاب میں پاکستان کا نام نہیں لیا، لیکن ان کے بیان کو پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جس میں کابل سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔
پاکستان کی جانب سے بھی سرکاری سطح پر سراج الدین حقانی کے بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب خان شیرپاؤ نے سراج الدین حقانی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھا کہ افغان وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کا یہ بیان کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور دوحہ معاہدے کے تحت اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، خاصی اہمیت رکھتا ہے۔
آفتاب شیرپاؤ کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان بنیادی طور پر انہی سے بیعت رکھتی ہے اور طویل عرصے سے افغانستان کے اُن علاقوں سے سرگرم رہی ہے جو سراج الدین حقانی کے کنٹرول میں رہے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات حالیہ برسوں میں سرحدی جھڑپوں اور سیکیورٹی خدشات کے باعث کشیدہ رہے ہیں۔
اکتوبر 2025 سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی گزرگاہیں بند ہیں، جس سے نہ صرف سیکیورٹی بلکہ تجارت اور عوامی رابطوں پر بھی اثر پڑا ہے۔ ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے دونوں فریقین کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوششیں کیں، مگر یہ کوششیں تاحال کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔
پاکستانی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ افغانستان ٹی ٹی پی کے حوالے سے تحریری ضمانت دینے سے گریزاں ہے، جبکہ اسلام آباد کے مطابق اسی تنظیم کے جنگجو طویل اور غیرمحفوظ سرحد کے ذریعے پاکستان میں داخل ہو کر حملے کرتے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سراج الدین حقانی کہ افغانستان کہ افغان کے مطابق رہے ہیں رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔