Express News:
2026-06-03@01:59:03 GMT

الوداع 2025

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

اس سال دسمبرکا مہینہ آیا اورگیا۔ وقت کی تیز رفتاری کا پتہ ہی نہ چلا۔ وقت بھی عجیب چیز ہے۔ جس کا فیتہ تو ویسے ہی گھوم رہا ہے، جیسے ہزاروں سال سے گھوم رہا تھا مگر ہمارے زاویے اس کو پرکھنے کے مختلف ہیں۔

کبھی یہ تیزی سے گزر جاتا ہے اورکبھی ایک لمحے پر بھی رک جاتا ہے۔ ہجر کی گھڑیاں کاٹے نہیں کٹتیں اور ایک ایک لمحہ طویل ہو جاتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ عمر گزر جاتی ہے، اگر مڑ کر دیکھیں اور لمحہ بھر احساس ہی نہیں ہوتا۔

اپنے پیاروں کا قیمتی ساتھ چھوٹ جاتا ہے۔ دل اب بھی یہی چاہتا ہے کہ واپس انھیں یادوں میں لوٹ جائیں۔ ان یادوں کے دریچوں سے وہ ہی بہاریں، خزاں، جاڑے اورگرمیاں اور گرمیوں کی وہ شامیں، وہ صحن، وہ گلیاں اورگلیوں میں کنچے کھیلنا، میرا لٹو، میری تختی، میری سلیٹ، وہ لالٹین کی روشنی، جب بجلی چلی جاتی تھی، وہ سب دیکھیں۔

وہ دادی کی لوریاں، وہ دھیرے سے امی کے سرہانے سو جانا، وہ گاؤں کی حویلی، وہ جھیل، جھیل کنارے بیٹھے پرندے، وہ تتلیوں کو پکڑنا اور پکڑ کے چھوڑ دینا۔ مکاں وہیں ہیں اور زمانے چلے گئے۔

زماں و مکان کا سنگم ہے یہ وقت۔ جو گزر گیا وہ مکاں اور جو چلا وہ زماں ! مکان تو اب بھی وہیں ہیں لیکن وہاں سے دادی چلی گئیں، پھر ابا چلے گئے، پھر امی چلی گئیں اور بڑے بھائی چلے گئے اور پھر ایک بہن بھی چلی گئیں۔

ہماری آبائی حویلی ایک پرانے مندر جیسا گمان دیتی ہے۔ ہماری آبائی مسجد جس کے اطراف میں ہمارا آبائی قبرستان جہاں صدیوں سے ہمارے بڑوں کی قبریں خاموش ہیں، وہ نیم کا درخت جو ہماری مسجد کی دہلیز پر تھا، اب بھی توانا ہے اور جس کے پتوں کی سرزنش اب بھی ہواؤوں کے ساتھ سنائی دیتی ہے۔

یہاں مجھے یہ کالم لکھتے ہوئے تیرہ سال گزر گئے۔ گزرتے وقت کے ساتھ میرے لکھنے کے زاویے بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ سوچ بدل چکی اور مزاج بھی بدل چکے ہیں۔

تجربے سے بڑی کوئی درسگاہ نہیں ہوتی، لکھائی سے اچھی کوئی عادت نہیں ہوتی، سوچوں اور خیالوں میں گھرے رہنا اور ادراک کرنا، یہ سب تجسس کی نشانیاں ہیں۔ پہلے زمانوں میں رومانوی تحریریں دل کو اچھی لگتی تھیں، شاعری میں گم سم رہنا اور حسن جوکہ خود ایک مضمون تھا اور ہم اس کے دیوانے۔

نہ جانے کتنے ناول اور کہانیاں پڑھیں ہو نگی جس کے کرداروں میں اکثر ہم گم ہوجاتے تھے۔ اب ایسی تحریروں کا دور ہے جو منطقی ہوں، ٹھوس شواہد کی روشنی میں کوئی دریافت ہو جس کو پڑھتے ہی دماغ کے طبق روشن ہو جائیں۔ جیسا کہ فیض کہتے ہیں کہ

 دل سے مل آتے ہیں فقط رسم نبھانے کے لیے

کوئی یادوں کے دریچے سے اب بھی جھانکتا ہے وہ ہے میرا بچپن، میراصحن،کئی خواب، کھلونے، وہ پتنگیں، وہ ڈوریاں اور بارش کے پانی میں کاغذ کی کشتیاں۔ دسمبرکے مہینے کا شروع ہوتے ہی ان یادوں نے گھیرا ڈال دیا۔

فرصت بھی نہ مل سکی۔ عدالتوں میں سردیوں کی چھٹیاں ہیں مگر میرے لیے نہیں، کیوں کہ میں فوجداری مقدمات کا وکیل ہوں۔ اس سال مصروفیت زیادہ رہی اور جب دسمبرکا مہینہ آیا تو اس سے مل نہ سکا۔ ہم سخن بھی نہ ہوئے،کوئی دشتِ تنہائی بھی ٹھہری، نہ آواز کے سائے تھے نہ کسی پری وش کا خیال، بلکہ اپنے کام میں مگن، میں اپنے کیسزکے دلائل کو سمت دینے لگا۔

قانون کی کتابوں میں الجھا رہا اور اب چند دن ہی باقی ہیں، دسمبر اور اس سال کو الوداع کہنے میں۔ نیا سال شروع ہونے کو ہے اور میرا اگلا مضمون بھی نئے سال میں ہی شایع ہوگا۔ بالکل ایسی ہی کہ ’’دنیا نے تیری یادوں سے بیگانہ کردیا۔‘‘

یہ کائنات کچھ نہیں، وقت کی تاریخ ہے۔ اس میں کئی کہکشائیں ہیں اور وہ بھی وقت ہے۔ محبت بھی وقت ہے، ہجر بھی وقت ہے۔ جنگ بھی وقت ہے اور امن بھی وقت ہے۔ اب دسمبرکے باقی چند دنوں کے کچھ لمحے رہتے ہیں، ماضی کی طرح ۔

چلو منطق سے نکل کر پھر حسن کا قیدی ہو جاتا ہوں، چند دن جو باقی ہیں، اس کائنات کے وشال سمندر میں، وقت کے گھنٹہ گھر میں، جہاں صرف وقت ہی رہتا ہے، جو زماں ہے جو مکاں ہے، جو خود زماں و مکاں کا سنگم ہے۔

جو سخن جو ہم نے رقم کیے

یہ ہیں سب ورق تیری یاد کے

کوئی لمحہ صبح وصال کا

کوئی شامیں ہجرکی مدتیں

دل ایک شاعر من تھا۔ جب سے  logic کی طرف لوٹا ہوں، توکیا دیکھتا ہوں کہ شاعری تو خود ایک ریاضیات کا مضمون ہے۔ Algorithm جو کہ مصنوعی ذہانت کی زبان ہے، یہ انسان کے ارتقاء کا نچوڑ ہے۔ ہزاروں سال کا سفر طے کرتے کرتے اس زبان کی ایجاد ہوئی ہے۔

یہ زبان بنائی نہیں گئی، اس زبان کی دریافت ہوئی ہے۔ یہ زبان کائنات کے گوشے گوشے میں رہتی ہے۔ ہر نقش پر اس کا عکس ہے،کیونکہ مصنوعی ذہانت جو آپ کو چیٹ بوٹ دیتی ہے، اس زبان سے پراسز کر کے آ پ کی زبان میں اس کو تبدیل کرتی ہے۔

مصنوعی ذہانت کا تمام پراسز انسانی محنت کا ثمر ہے۔ یہ ایک بھیڑ ہے اور ہم اکیلے ہیں۔ ہم اب Information پر چلتے ہیں، اگر ایک روٹی سے ہمیں اپنی بھوک مٹانی ہے تو جو چیٹ بوٹ پر ہوتا ہے، وہ ہمارے ذہن کی خوراک ہے۔

اب ہم انسانوں کو پرانے خیالات سے نکلنا ہوگا،کیونکہ اب انسانوں کا مقابلہ مشینوں سے ہے۔ مصنوعی ذہانت کا ایک چیٹ بوٹ ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کے برابر ہے اور وہ ایک فرد ہے، جس کی عمر پانچ سال بھی نہیں ہوتی اور ایک نئے چیٹ بوٹ کی ایجاد ہو جاتی ہے جو پہلے سے زیادہ بہتر ہوتا ہے۔

اس مشین کی ارتقاء بھی انسانوں کی طرح سے ہے جو غاروں سے نکل کر کھیتی باڑی اور پھر شہروں کو آباد کیا۔یہ مصنوعی ذہانت ان سو سالوں کا ثمر ہے جوکمپیوٹر بننے سے وجود میں آیا اور پھر تصور کریں کہ آگے آنے والے سو سال میں دنیا کتنی بدل چکی ہوگی۔

دنیا میں کوئی ملک نہ ہو گا، دنیا ایک بن چکی ہوگی، کرنسی ایک ہوگی اور توانائی شمسی ہوگی۔ اتنی ہی تیز رفتاری سے جیسا کہ دسمبر آیا اور چلا بھی گیا۔

بس کچھ پل ملے، میری ان سطروں کی طرح:

میں کہ ہوں کوئی راہ،

 پت جھڑ کے موسم کی

لو ابھی دامن جھاڑا نہیں،

کہ پھر زرد پتوں سے بھرگئی ہوں

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت بھی وقت ہے جاتا ہے چیٹ بوٹ اب بھی ہے اور

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی