Jasarat News:
2026-07-24@13:02:17 GMT

مشورہ لینا بنتا ہے

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اس بات پر اگر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ برطانیہ کے کسی شہر کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے پاکستان کے ادارے سے مشورہ کیا گیا ہے تو واقعی یہ حیران کن بات ہے میڈیا بتا رہا کہ وہ برطانیہ کا شہر بکنگھم جس کی صفائی کے لیے پنجاب ویسٹ اتھارٹی مشورے دے رہی ہے۔ برمنگھم کے ذمے دار منتظمین کا ایک اہم ہدف یہ تھا کہ کوئی ایسا ماڈل شیئر کیا جائے کہ جس نے پاکستان میں گلی محلوں کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ہو برمنگھم جیسے شہر میں کوڑے دان اور آئے دن صفائی کے کارکنوں کی ہڑتال کے باعث مشکلات ہیں۔ برمنگھم انگلستان کا ایک بڑا شہر ہے اور میٹروپولیٹن بھی ہے اور یہ برطانیہ کا لندن کے بعد سب سے بڑی آبادی والے شہر ہے۔

کافی سال پہلے کی بات ہے جب ہم برطانیہ کی سیر کے لیے گئے تھے اور لندن میں پہنچنے کے بعد ہی ہم نے یہ فیصلہ کر لیا تھا بلکہ یہ زیادہ صحیح ہوگا کہ وہاں پہنچنے سے پہلے ہی ہم یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ مادام تساؤ کے گھر تو ضرور ہی جانا ہے لہٰذا ایک دن ہم صبح صبح مادام کے عجائب گھر کے لیے نکل گئے بیکر اسٹریٹ پر عجائب گھر کے باہر ایک لمبی لائن لگی ہوئی تھی یہ لائن ٹکٹ لینے کے لیے تھی۔ ہم ٹکٹ لے کر آگے بڑھے داخلے کا گیٹ اتنا ہی بڑا تھا جیسے کہ بہت چھوٹے گھروں کے دو پٹ والے دروازے ہوتے ہیں اندر چھوٹے سے کمرے میں لفٹ کا دروازے تھا جب لفٹ کھلی اور ہم آگے بڑھے تو فلیش لائٹ، کیمرے اور رپورٹرز کا شور آپ کو اپنے آپ میں ایک وی آی پی ہونے کا احساس دلاتا ہے دیکھنے کے لیے تو وہاں بہت کچھ تھا لیکن یہاں جو یہ ذکر کیا ہے اس کی وجہ وہاں کا ایک ایویٹ ’’اسپرٹ آف لندن‘‘ ہے۔

یہ ایک شو تھا آپ کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کے لیے کہا جاتا ہے جہاں ایک لندن کی پرانی کیب کا ادھا حصہ آپ کے پیچھے سے آتا ہے اور آپ خود بخود اس پر سوار ہو جاتے ہیں اور وہ آہستہ آہستہ حرکت کرتی ہے اب آپ کے دونوں طرف مناظر بدلتے ہیں جو لندن کے کوئی دو ڈھائی سو سال پرانے مناظر تھے اس میں لندن گندگی سے بھرا ہوا تھا کیچڑ مٹی چوہے بوسیدہ مکانات اور کچے راستے گندی فراک پہنی ہوئی خواتین جو کنویں سے پانی بھر رہی تھیں اور گلیاں کیچڑ سے بھری ہوئی تھی اور چوہے ٹہل رہے تھے آہستہ آہستہ مناظر بدلتے گئے روشنیاں اور ترقی نظر آنے لگتی ہے۔

ایک مقام پر شیکسپیئر بھی نظر آئے جو لکھنے میں مصروف تھے۔ اب ہم نے یہ دیکھا اور پڑھا کہ برمنگھم میں گندگی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور اس کی صفائی کے لیے منتظمین مختلف طریقے اختیار کر رہے ہیں اور کامیاب نہیں ہو رہے ہیں اب اس کے لیے انہوں نے ہمارے ہی ملک کے ایک سولڈ ویسٹ اتھارٹی سے رابطہ کیا ہے تو ذرا حیرت ہوئی لیکن بھلا اس میں حیرت کی کیا بات ہے؟ دنیا تو بدلتی رہتی ہے اور ہر چیز بدل رہی ہے وہ ایک بات جو مشہور ہے کہ ایک چیز جس میں ثبات ہے تو وہ تبدیلی ہے حیرت اس بات پر تھی کہ کراچی کے منتظمین نے کیوں نہ ان سے مشورہ طلب کیا؟؟

اپنے ہی ملک کا اپنا ہی شہر اپنا ہی ہمسایہ اور پھر ادھر کراچی جیسا شہر کہ جو پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور میٹرو پولیٹن سٹی ہے اس کی صفائی

کی ذمے داری ادا ہونی چاہیے کہ اس کی گندگی اور کچرا پورے پاکستان کے چہرے کو گندا کر دیتا ہے اُبلتے ہوئے کوڑے کرکٹ اور کچرے کے انبار میڈیا کی زینت بنتے رہتے ہیں اس ماحول میں جب اس بات کے بارے میں خبر آئی کہ دوسرے ملک کی صاحب اختیار نے اپنے کچرے اور اپنی صفائی کے لیے پنجاب کے سولڈ ویسٹ اتھارٹی کے منتظمین سے بات کی ہے دکھ بھی ہوا اور افسوس بھی کہ کراچی کے صاحب اختیار کو کچھ دھیان کیوں نہیں ہوتا؟؟ کچھ ماہ پہلے پنجاب حکومت نے محمود بوٹی سائیڈ کا مسئلہ بھی بڑی اچھی طرح حل کیا تھا جہاں کوڑے کا پہاڑ لگ بھگ کوئی 80 فٹ اونچا ہو چکا تھا اور یہ تقریباً 41 ایکڑ رقبے پر پھیل چکا تھا یہ بڑی خطرناک صورتحال تھی کیونکہ اس سے ایک خطرناک گیس خارج ہو رہی تھی میتھین گیس جس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ موسمیاتی تبدیلی کا سبب بننے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔

یہ کرۂ ارض کو بہت زیادہ گرم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہ کچرا اور میتھین گیس ہوا ہی کو نہیں بلکہ زیر زمین پانی کو بھی آلودہ اور ناقابل استعمال بنا رہی تھی اور سال ہا سال سے لاکھوں ٹن کچرا ایک ہی جگہ پڑے رہنے کے باعث جراثیم کو بارش کے پانی کی مدد سے زمین کے اندر اُتارنے اور پھر اس کے ذریعے پانی کو آلودہ کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا لاہور کے مضافات میں رنگ روڈ کے قریب محمود بوٹی کا علاقہ آنے سے کئی کلومیٹر پہلے ہی شدید قسم کی بدبو یہ بتا دیتی تھی کہ آپ محمود بوٹی کے علاقے سے گزرنے والے ہیں لیکن اب یہاں پر محمود بوٹی میں کوڑے کرکٹ کی موجودگی نہیں ہے بلکہ وہ لاکھوں ٹن کچرا مٹی تلے دب چکا ہے اس کام کو پرائیویٹ کمپنیاں کر رہی تھی ایک بڑی رقم اس کچرے کو مٹی کے اندر دبانے میں خرچ ہوئی لیکن جو کچھ خرچ ہوا ہے اس کو واپس حاصل کرنا مشکل نہیں ہوگا کیونکہ اس 41 ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی لینڈ فل سائیڈ سے گیس حاصل کی جائے گی جسے قریب بھی صنعتوں کو بیچا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی اس کے 11 ایکڑ رقبے پر ایک سولر پارک بنایا جائے گا جو تقریباً پانچ میگا واٹ بجلی بنانے کے صلاحیت رکھے گا باقی 30 ایکڑ پر اربن جنگل لگائے جائیں گے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس پر حکومت کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا بلکہ اس کا تمام تر خرچ نجی کمپنیاں کر رہی ہیں اور ان کمپنیوں کو بعد میں اس کی ادائیگی کاربن کریڈٹس کے ذریعے کی جائے گی۔

صنعتوں سے گرین ہاؤس گیسز پیدا ہوتی ہیں جو دنیا کے لیے نقصان دہ ہیں صنعتیں اس کو کم کرنے کے لیے تدبیر کرتی ہیں جس سے کاربن کریڈٹ پیدا ہوتا ہے، ایک میٹرک ٹن گرین ہاؤس گیس ختم ہونے یا کم ہونے پر ایک کاربن کریڈٹ پیدا ہوتا ہے اور وہ کمپنیاں جو اپنے کاربن کریڈٹ نہیں بنا سکتیں وہ مارکیٹ سے کریڈٹس خرید لیتی ہیں اس طرح وہ کاربن کریڈٹ خرید کر اپنے گرین گرین ہاؤس گیسز کو پیدا کرنے کو بیلنس کر لیتے ہیں۔ بین الاقوامی طور پر اہم ہے۔ محمود بوٹی لینڈ فل سائٹ پر سولر پارک اور پھر یہاں سے نکلنے والی گیس کی کمائی اس کے علاوہ ہوگی اور یہ سب علاقے صاف کرنے میں استعمال کی جائے گی سو یہ کام اگر ایک صوبے میں ہو رہا ہے اور وہاں کی اتھارٹی برمنگھم کو مشورے دے رہی ہے تو پھر سندھ اور کراچی میں کیوں نہیں ہو سکتا ہے؟؟

غزالہ عزیز.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کاربن کریڈٹ محمود بوٹی نے کے لیے صفائی کے نہیں ہو رہی تھی ہے اور کا ایک بات ہے ا ہستہ

پڑھیں:

مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ

—تصویر بشکریہ سوشل میڈیا

قونصلیٹ جنرل آف پاکستان مانچسٹر نے پاکستانی کمیونٹی کی سہولت کے لیے سرکاری اوقات میں اضافہ کر دیا ہے۔

ہائی کمشنر آف پاکستان ٹیپو عثمان کی ہدایت پر اب قونصل خانہ کمیونٹی خدمات کے لئے روزانہ صبح 8:00 بجے کام کا آغاز کرے گا۔

قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئے اوقات کار سے کمیونٹی کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں گی، جبکہ روزانہ اپوائنٹمنٹ کی تعداد بھی بڑھا دی جائے گی۔

تمام درخواست گزاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ قونصل خانے کی آن لائن اپوائنٹمنٹ پورٹل کے ذریعے وقت لینا ہوگا۔

یہ اپوائنٹمنٹ ہر ہفتہ کے روز صبح 10:00 بجے جاری کی جائیں گی۔درخواست گزار اپوائنٹمنٹ بک کرتے وقت اپنی ذاتی معلومات استعمال کریں اور مقررہ وقت پر پہنچیں۔

30 منٹ سے زیادہ تاخیر سے آنے والے درخواست گزاروں کو نئی اپوائنٹمنٹ لینا ہوگی۔

قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل نے کہا کہ یہ اقدامات کمیونٹی کو مؤثر، شفاف اور بہتر خدمات فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے