پاکستان کی یمن میں امن و استحکام کی سعودی اور اماراتی کوششوں کی حمایت
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان نے یمن میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے اورخطے میں استحکام کے لیے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حالیہ سفارتی کوششوں کی حمایت کر دی ہے۔پاکستان کے دفترخارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان یمن کی بدلتی ہوئی صورتحال پرگہری نظر رکھے ہوئے ہے،ہم اس سلسلے میں متحدہ عرب امارات کی کوششوں کو بھی سراہتے ہیں۔دفترخارجہ نے مزیدکہا کہ ’ہم یمن کی وحدت اور علاقائی سالمیت کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں اس امید کا اظہار کرتے ہیں کہ یمن کے تمام فریق ایسے کسی بھی یکطرفہ قدم سے گریز کریں گے جو صورتحال کو مزید بگاڑنے کا باعث بنے۔‘’ہم یمن کے تمام گروہوں پرزوردیتے ہیں کہ وہ طے شدہ پیرامیٹرزکی بنیاد پرایک جامع،مذاکراتی اورسیاسی حل کے لیے خلوصِ نیت کے ساتھ تعمیری بات چیت کا حصہ بنیں۔‘دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان جنرل ترکی المالکی علیحدگی پسندوں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا، شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کیلیے ایکشن لینے پرمجبور ہونگے،غیرملکی میڈیا رپورٹس کیمطابق علیحدگی پسند گروپ ایس ٹی سی نے چند دن پہلے صوبہ حضرموت پر قبضہ کیا تھا،ایس ٹی سی کے جنگجوؤں نے بین الاقوامی تسلیم شدہ حکومت کو عدن شہر سے بے دخل کیا،ایس ٹی سی نے اپنی فورسز واپس بلانے کی سعودی اپیل بھی مسترد کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔