شہید بینظیر بھٹو کی برسی پرجیالوں کی گڑھی خدا بخش آمد
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251228-11-8
سکھر (نمائندہ جسارت ) پاکستان پیپلز پارٹی کی بانی چیئرپرسن، سابق وزیرِاعظم اور جمہوریت کی علامت شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی 18ویں برسی کے موقع پر ملک کے چاروں صوبوں سے جیالے بڑی تعداد میں گڑھی خدا بخش بھٹو پہنچی۔ برسی کی تقریبات کے دوران فضا ‘‘جئے بھٹو’’ اور ‘‘بینظیر زندہ ہے’’ کے نعروں سے گونجتی رہی جبکہ کارکنان نے شہید محترمہ کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی سکھر اقلیتی ونگ سندھ کے صدر لال چند اکرانی، سکھر ضلع صدر ایشور لال کمار، جنرل سیکریٹری راج کمار وادھوانی سمیت اقلیتی ونگ کے دیگر رہنماؤں اور کارکنان نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مزار پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور ان کے درجات کی بلندی کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ تقریب میں سندھ کے جنرل سیکریٹری وقار مہدی، اقلیتی ونگ سکھر کے جنرل سیکریٹری راج کمار، سپاف کے سابق ڈویڑنل صدر قاضی سمیع، انور سومرو اور دیگر کارکنان بھی شریک تھے۔ وقار مہندی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی پوری زندگی جمہوریت کی بحالی، انسانی حقوق، خواتین کے بااختیار بنانے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے وقف کر دی۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ کا مشن آج بھی مظلوم عوام کے لیے امید کی کرن ہے اور ہم عہد کرتے ہیں کہ ان کے فلسفے اور جدوجہد کو آخری سانس تک جاری رکھتے ہوئے ہر وقت عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔برسی کی تقریب میں سکھر ضلع سے تعلق رکھنے والی اقلیتی برادری نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی، جس سے یہ ثابت ہوا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اقلیتوں کی سچی نمائندہ جماعت ہے اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو تمام پاکستانیوں کی قائد تھیں۔بعد ازاں اقلیتی ونگ کے رہنما اور کارکنان شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مزار کے احاطے میں قائم بڑے جلسہ گاہ میں پہنچے، جہاں انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو زرداری، سینئر رہنما فریال تالپور اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے خطابات توجہ سے سنے۔ مقررین نے شہید محترمہ کی جمہوریت کے لیے دی گئی قربانیوں، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق پر روشنی ڈالی اور کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ عوام سے اپنا رابطہ مزید مضبوط کریں۔ تقریب کے اختتام پر کارکنان نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے مشن سے وفاداری کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ بھٹو خاندان کی قیادت میں متحد رہتے ہوئے جمہوریت، آئین اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہید محترمہ بینظیر بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی نے شہید محترمہ اقلیتی ونگ کے لیے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔