8 بازاروں کو وہیکل فری قرار دینا انتظامیہ کی نااہلی ہے
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251228-11-9
فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی کے راہنمائوںپروفیسرمحبوب الزماںبٹ، میاںانوارلحق ایڈووکیٹ ، میاں طاہر ایوب نے 8 بازاروں کو وہیکل فری قرار دینے کے فیصلہ کی ناکامی کو انتظامیہ کی نااہلی قراردیتے ہوئے کہاہے کہ6 ماہ سے زائدکاعرصہ گزرجانے کے باوجود پارکنگ کے غیر مؤثر انتظامات اور مناسب سہولیات کے فقدان نے شہریوںکی مشکلات میںشدیداضافہ کردیاہے۔ متبادل پارکنگ ایریازاور ٹریفک مینجمنٹ پلان کے بغیر اس فیصلے نے عوامی سہولت کے بجائے پریشانی بڑھا دی ہے۔انہوںنے انتظامیہ سے فوری طورپرحکمت عملی پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ فوری طورپر پارکنگ کے دیرینہ مسائل کا جامع حل پیش کیا جائے اور بازاروں میں عوام کے لیے قابلِ عمل متبادل سہولیات فراہم کی جائیں۔ بڑے فیصلوں سے قبل مناسب مشاورت، پلاننگ اور عوامی آسانی کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ شہر کی رونق اور کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ آٹھ بازاروں کو وہیکل فری قرار دینے سے ٹریفک کا بوجھ اطراف کی سڑکوں پر منتقل ہوگیا، جہاں پہلے ہی گنجائش محدود ہے۔بازاروں میں کاروباری سرگرمیوں کے لیے آنے والے شہری، خواتین، بزرگ اور مریض شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ حکومتی ا علانات کے باوجود 10 سال بعد بھی پارکنگ پلازہ نہ بن سکا۔ گھنٹہ گھر، آٹھ بازاروں ،ملحقہ گلیوں سمیت شہر میں پارکنگ سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ شہر بھر میں پارکنگ کی کوئی مناسب جگہ موجود نہیں،شہری مین شاہراہوں پر ہی گاڑیاں اور موٹرسائیکل پارک کرنے پر مجبور ہیں ۔بے ہنگم پارکنگ پرشہریوں کو ٹریفک مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ گھنٹہ گھر، آٹھ بازاروں ور ارد گرد کے تجارتی مراکز سمیت ضلع کچہری جانے والے شہریوں کو گاڑیاں اور موٹرسائیکل پارک کرنے میں شدید پریشانی کا سامنا کرناپڑتا ہے،سڑکوں پر پارکنگ سے ٹریفک کا بہائوشدید متاثر ہورہاہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.