حکمرانوں کے پاس ملک چلانے کی اہلیت و قابلیت نہیں،جاوید قصوری
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (وقائع نگارخصوصی) امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ ملکی اداروں کی مسلسل تباہ حالی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس ملک چلانے کے لئے اہلیت، صلاحیت اور قابلیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن، نااہلی اور غلط پالیسیوں نے پاکستان کے مضبوط اداروں کو کھوکھلا کر دیا ہے اور اب رہی سہی کسر بے دریغ نجکاری نے پوری کر دی ہے۔محمد جاوید قصوری کا کہنا تھا کہ منافع بخش قومی اداروں کو اونے پونے فروخت کرنا دراصل قومی اثاثوں کی لوٹ مار کے مترادف ہے۔ یہ نجکاری عوامی مفاد میں نہیں بلکہ مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی جا رہی ہے، جس کا خمیازہ عام شہری کو مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی بدحالی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث روزمرہ استعمال کی اشیا عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔امیر جماعت اسلامی پنجاب نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، نوجوان مایوسی اور اضطراب کا شکار ہیں جبکہ حکومت کے پاس روزگار فراہم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ موجود نہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں، جو ایک سنگین قومی المیہ ہے۔انہوں نے کہا کہ لاقانونیت اور بے امنی میں اضافہ حکومت کی رٹ ختم ہونے کا ثبوت ہے۔ چوری، ڈکیتی، اغوا اور دیگر جرائم روز کا معمول بن چکے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے سیاسی دباؤ کے باعث آزادانہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور انصاف کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔محمد جاوید قصوری نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں شفاف، دیانتدار اور عوام دوست نظام کے قیام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپشن سے پاک نظام، مضبوط ادارے اور اسلامی اصولوں پر مبنی معیشت ہی پاکستان کو بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔ عوام نااہل اور کرپٹ حکمرانوں کو مسترد کر کے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں تاکہ ملک کو ایک محفوظ، خوشحال اور خودمختار مستقبل کی طرف لے جایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی جاوید قصوری نے کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔