سال 2025 میں بلوچستان حکومت کی کارکردگی کیسے رہی؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
2025 بلوچستان حکومت کی مجموعی کارکردگی کے لحاظ سے اہم اقدامات، بعض نمایاں کامیابیوں اور چند شعبوں میں سست روی کا سال رہا۔
حکومت نے تعلیم، ٹرانسپورٹ، شہری ترقی، روزگار، زراعت اور فلاحی منصوبوں میں متعدد اقدامات کیے جن کے نتائج صوبے کی سماجی و معاشی صورتحال پر اثر انداز ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ البتہ چندہ ایسے شعبے بھی موجود ہیں جہاں حکومتی کارکردگی سست روی کا شکار رہی ہے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت کی پہلی یوتھ پالیسی، نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے کا عزم
رواں برس حکومت بلوچستان نے کوئٹہ میں سفری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے گرین بس منصوبے میں توسیع کی اور 12 نئی بسیں شامل کی گئیں، جبکہ خواتین کی محفوظ سفری ضرورت کے پیشِ نظر 5 پنک بسوں کے ساتھ خصوصی سروس کا آغاز کیا گیا، جسے عوام نے سراہا ہے۔
اسی دوران کوئٹہ ڈیولپمنٹ پلان کے تحت شہر کی مرکزی اور اہم سڑکوں کو کشادہ کیا گیا، غیر قانونی پارکنگ ختم کی گئی، ٹریفک کا بہاؤ بہتر ہوا اور شہر کی مجموعی خوبصورتی میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔
شہر کے اندر اور اطراف میں اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاںحکومتی اداروں نے شہر کے اندر اور اطراف میں بڑھتی ہوئی اسمگلنگ کے خلاف بھی مؤثر کارروائیاں کیں، متعدد اسمگل شدہ اشیا ضبط کی گئیں اور اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی تیز کی گئی، جس سے غیر قانونی تجارت میں کمی آئی۔
تعلیم کے شعبے میں حکومت کی کارکردگی نمایاں رہی۔ 32 ارب روپے مختص کیے گئے جن میں اسکولوں کی بہتری، اساتذہ کی تنخواہیں اور 10 لاکھ طلبا کے وظائف شامل تھے۔
رواں برس 3200 بند اسکولز بحال کیے گئے، 2 ہزار سے زیادہ غیر حاضر اساتذہ برطرف کیے گئے، جبکہ بینظیر اسکالر شپ پروگرام کے تحت طلبہ کے لیے آکسفورڈ سمیت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اسکالر شپ کا آغاز کیا گیا۔
اس کے علاوہ مزدور طبقے کے 400 طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا گیا، شہدا، اقلیتی برادری اور خواجہ سراؤں کے لیے بھی تعلیمی گرانٹس مختص کی گئیں۔ دور دراز علاقوں کے بچوں کو تعلیم سے روشناس کرانے کے لیے کتاب گاڑی منصوبہ شروع کیا گیا اور اسکول چھوڑنے کی شرح کم کرنے کے لیے ارلی وارننگ سسٹم فعال کیا گیا۔
’نوجوان کو روزگار اور تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے فلائنگ کلب بحال‘نوجوانوں کے لیے روزگار اور تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے فلائنگ کلب کو بحال کیا گیا جبکہ یوتھ ریسورس سینٹر قائم کیا گیا تاکہ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ رہنمائی اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ضروری تربیت فراہم کی جا سکے۔
زرعی شعبے میں کھیتوں اور باغات کو سولر توانائی پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم کسانوں کے لیے اعلان کردہ ٹریکٹروں اور زرعی مشینری کی فراہمی کا عمل شروع نہیں ہو سکا۔
کمیونیکیشن کے شعبے کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے گئے تھے لیکن اس شعبے میں عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔
صحت کے شعبے کی بات کی جائے تو 10 سرکاری اسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے چلانے کا فیصلہ بھی تاحال عملی شکل اختیار نہ کر سکا، جبکہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات اور بنیادی طبی سہولیات کی کمی برقرار رہی۔
بی آئی ایس پی کی رقم میں 27 فیصد اضافہفلاحی اسکیموں میں بہتری دیکھنے میں آئی اور بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی رقم میں 27 فیصد اضافہ کیا گیا۔ کفالت پروگرام کے ذریعے بھی مستحق خاندانوں کی معاونت جاری رہی۔ حکومت نے نیشنل کلائمیٹ چینج اسٹریٹیجی بھی مکمل کرلی ہے جس پر جلد عملدرآمد شروع ہونے کی توقع ہے۔
حکومت نے صحافیوں کے لیے خصوصی ہاؤسنگ اسکیم کا سنگ بنیاد میں بھی کوئٹہ میں رکھ دیا ہے جس کے تحت صحافیوں کو آئندہ آنے والے سال میں فلیٹس فراہم کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت کا بڑا فیصلہ: بی ایریا کو اے ایریا میں بدلنے کے نوٹیفکیشنز واپس
سال 2025 میں بلوچستان حکومت کی کارکردگی کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ سال جزوی طور پر کامیاب ضرور کہلایا جا سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹ اصلاحات، کوئٹہ ڈیولپمنٹ پلان، تعلیم کے شعبے کی بہتری، اسکولوں کی بحالی، پنک بس سروس کا آغاز اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں وہ اقدامات ہیں جنہوں نے حکومت کے مثبت پہلو کو اجاگر کیا۔
تاہم صحت، کمیونیکیشن اور زراعت کے چند اہم منصوبوں میں تاخیر نے انتظامی چیلنجز اور بہتر حکمت عملی کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے۔ اگر حکومت موجودہ رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے سست روی کے شکار شعبوں پر خصوصی توجہ دے تو آنے والے سالوں میں صوبے کی ترقی کا سفر مزید تیز ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اصلاحات بی آئی ایس پی ترقیاتی منصوبے حکومت بلوچستان شعبہ تعلیم شعبہ صحت وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اصلاحات بی ا ئی ایس پی ترقیاتی منصوبے حکومت بلوچستان شعبہ تعلیم وی نیوز بلوچستان حکومت کی کرنے کے لیے کیا گیا کے خلاف کے شعبے کیے گئے
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔