WE News:
2026-07-24@00:51:56 GMT

سال 2025 میں بلوچستان حکومت کی کارکردگی کیسے رہی؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

سال 2025 میں بلوچستان حکومت کی کارکردگی کیسے رہی؟

2025 بلوچستان حکومت کی مجموعی کارکردگی کے لحاظ سے اہم اقدامات، بعض نمایاں کامیابیوں اور چند شعبوں میں سست روی کا سال رہا۔

حکومت نے تعلیم، ٹرانسپورٹ، شہری ترقی، روزگار، زراعت اور فلاحی منصوبوں میں متعدد اقدامات کیے جن کے نتائج صوبے کی سماجی و معاشی صورتحال پر اثر انداز ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ البتہ چندہ ایسے شعبے بھی موجود ہیں جہاں حکومتی کارکردگی سست روی کا شکار رہی ہے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت کی پہلی یوتھ پالیسی، نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے کا عزم

رواں برس حکومت بلوچستان نے کوئٹہ میں سفری سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے گرین بس منصوبے میں توسیع کی اور 12 نئی بسیں شامل کی گئیں، جبکہ خواتین کی محفوظ سفری ضرورت کے پیشِ نظر 5 پنک بسوں کے ساتھ خصوصی سروس کا آغاز کیا گیا، جسے عوام نے سراہا ہے۔

اسی دوران کوئٹہ ڈیولپمنٹ پلان کے تحت شہر کی مرکزی اور اہم سڑکوں کو کشادہ کیا گیا، غیر قانونی پارکنگ ختم کی گئی، ٹریفک کا بہاؤ بہتر ہوا اور شہر کی مجموعی خوبصورتی میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔

شہر کے اندر اور اطراف میں اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں

حکومتی اداروں نے شہر کے اندر اور اطراف میں بڑھتی ہوئی اسمگلنگ کے خلاف بھی مؤثر کارروائیاں کیں، متعدد اسمگل شدہ اشیا ضبط کی گئیں اور اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی تیز کی گئی، جس سے غیر قانونی تجارت میں کمی آئی۔

تعلیم کے شعبے میں حکومت کی کارکردگی نمایاں رہی۔ 32 ارب روپے مختص کیے گئے جن میں اسکولوں کی بہتری، اساتذہ کی تنخواہیں اور 10 لاکھ طلبا کے وظائف شامل تھے۔

رواں برس 3200 بند اسکولز بحال کیے گئے، 2 ہزار سے زیادہ غیر حاضر اساتذہ برطرف کیے گئے، جبکہ بینظیر اسکالر شپ پروگرام کے تحت طلبہ کے لیے آکسفورڈ سمیت اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اسکالر شپ کا آغاز کیا گیا۔

اس کے علاوہ مزدور طبقے کے 400 طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیجا گیا، شہدا، اقلیتی برادری اور خواجہ سراؤں کے لیے بھی تعلیمی گرانٹس مختص کی گئیں۔ دور دراز علاقوں کے بچوں کو تعلیم سے روشناس کرانے کے لیے کتاب گاڑی منصوبہ شروع کیا گیا اور اسکول چھوڑنے کی شرح کم کرنے کے لیے ارلی وارننگ سسٹم فعال کیا گیا۔

’نوجوان کو روزگار اور تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے فلائنگ کلب بحال‘

نوجوانوں کے لیے روزگار اور تربیت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے فلائنگ کلب کو بحال کیا گیا جبکہ یوتھ ریسورس سینٹر قائم کیا گیا تاکہ نوجوانوں کو پیشہ ورانہ رہنمائی اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ضروری تربیت فراہم کی جا سکے۔

زرعی شعبے میں کھیتوں اور باغات کو سولر توانائی پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم کسانوں کے لیے اعلان کردہ ٹریکٹروں اور زرعی مشینری کی فراہمی کا عمل شروع نہیں ہو سکا۔

کمیونیکیشن کے شعبے کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے گئے تھے لیکن اس شعبے میں عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔

صحت کے شعبے کی بات کی جائے تو 10 سرکاری اسپتالوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے چلانے کا فیصلہ بھی تاحال عملی شکل اختیار نہ کر سکا، جبکہ سرکاری اسپتالوں میں ادویات اور بنیادی طبی سہولیات کی کمی برقرار رہی۔

بی آئی ایس پی کی رقم میں 27 فیصد اضافہ

فلاحی اسکیموں میں بہتری دیکھنے میں آئی اور بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی رقم میں 27 فیصد اضافہ کیا گیا۔ کفالت پروگرام کے ذریعے بھی مستحق خاندانوں کی معاونت جاری رہی۔ حکومت نے نیشنل کلائمیٹ چینج اسٹریٹیجی بھی مکمل کرلی ہے جس پر جلد عملدرآمد شروع ہونے کی توقع ہے۔

حکومت نے صحافیوں کے لیے خصوصی ہاؤسنگ اسکیم کا سنگ بنیاد میں بھی کوئٹہ میں رکھ دیا ہے جس کے تحت صحافیوں کو آئندہ آنے والے سال میں فلیٹس فراہم کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان حکومت کا بڑا فیصلہ: بی ایریا کو اے ایریا میں بدلنے کے نوٹیفکیشنز واپس

سال 2025 میں بلوچستان حکومت کی کارکردگی کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ سال جزوی طور پر کامیاب ضرور کہلایا جا سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹ اصلاحات، کوئٹہ ڈیولپمنٹ پلان، تعلیم کے شعبے کی بہتری، اسکولوں کی بحالی، پنک بس سروس کا آغاز اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں وہ اقدامات ہیں جنہوں نے حکومت کے مثبت پہلو کو اجاگر کیا۔

تاہم صحت، کمیونیکیشن اور زراعت کے چند اہم منصوبوں میں تاخیر نے انتظامی چیلنجز اور بہتر حکمت عملی کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے۔ اگر حکومت موجودہ رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے سست روی کے شکار شعبوں پر خصوصی توجہ دے تو آنے والے سالوں میں صوبے کی ترقی کا سفر مزید تیز ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اصلاحات بی آئی ایس پی ترقیاتی منصوبے حکومت بلوچستان شعبہ تعلیم شعبہ صحت وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اصلاحات بی ا ئی ایس پی ترقیاتی منصوبے حکومت بلوچستان شعبہ تعلیم وی نیوز بلوچستان حکومت کی کرنے کے لیے کیا گیا کے خلاف کے شعبے کیے گئے

پڑھیں:

بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔

عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور

اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثر

واضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیا

عوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ

واضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب

اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔

ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…

— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026

حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔

آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالات

حملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب

کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔

عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاری

بعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔

تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔

ایک روز قبل مسافر بس پر حملہ

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔

حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف