شدید دھند کے باعث حدنگاہ متاثر،موٹرویز مختلف مقامات سے بند
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کے باعث حدِ نگاہ انتہائی کم ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے موٹرویز کو مختلف مقامات پر بند کر دیا گیا ہے۔
موٹروے ایم 2 (لاہور تا کوٹ مومن)، ایم 3 (فیض پور تا درخانہ)، ایم 4 (پنڈی بھٹیاں تا ملتان)، ایم 5 (ملتان تا ظاہر پیر) اور ایم 11 (سیالکوٹ موٹروے) بند ہیں۔
قومی شاہراہ پر لاہور، پتوکی، اوکاڑہ اور ساہیوال میں جبکہ چیچہ وطنی، اقبال نگر، میاں چنوں، خانیوال، ملتان اور بہاولپور میں حدِ نگاہ صفر ہو گئی ہے۔
ترجمان موٹروے کے مطابق بندش کا مقصد عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے، اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
مسجدالحرام میں خودکشی کی کوشش ناکام بنانے والا رضا کون نکلا؟
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔