نیو ایئر نائٹ پر پنجاب پولیس کا سکیورٹی پلان مکمل
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: نیو ایئر نائٹ کے موقع پر عوام کی حفاظت اور امن و امان یقینی بنانے کے لیے پنجاب پولیس نے مکمل سکیورٹی پلان تیار کر لیا ہے۔ آئی جی پنجاب نے لاہور سمیت پورے صوبے میں سکیورٹی بڑھانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
سال نو کی خوشیوں کے موقع پر 25 ہزار سے زائد پولیس افسران اور اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر تعینات ہوں گے۔ ترجمان کے مطابق 419 انسپکٹرز، 1267 سب انسپکٹرز، 2189 اے ایس آئیز، 1408 ہیڈ کانسٹیبلز اور 16,977 کانسٹیبلز ڈیوٹی انجام دیں گے۔ لاہور میں 5 ہزار سے زائد افسران اور اہلکار سکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ہوں گے۔
مسجدالحرام میں خودکشی کی کوشش ناکام بنانے والا رضا کون نکلا؟
صوبے بھر میں سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے تمام سرگرمیوں کی نگرانی کی جائے گی۔ آئی جی پنجاب نے پولیس کو ہائی الرٹ رہنے اور ملک دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
نیو ایئر نائٹ پر ون ویلنگ، ہوائی فائرنگ اور ہلڑ بازی کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی۔ ڈاکٹر عثمان انور نے کہا کہ ہلڑ بازی اور شہریوں، خصوصاً خواتین کو تنگ کرنے والے شرپسند عناصر کو گرفتار کر کے حوالات میں منتقل کیا جائے گا۔
"کلین لاہورمشن" اور"ڈویلپمنٹ پروگرام" پرعملدرآمد تیزی سے جاری
آئی جی پنجاب نے ٹریفک کے مربوط انتظامات یقینی بنانے کا بھی حکم دیا ہے تاکہ شہری بلاخوف و خطر اپنی تقریبات منانے کے قابل ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔