Islam Times:
2026-07-24@04:19:30 GMT

ایپسٹین فائلز کے معمے سے آپ کیا سمجھے؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

ایپسٹین فائلز کے معمے سے آپ کیا سمجھے؟

اسلام ٹائمز: ان فائلز سے پتہ نہیں آپ کیا کچھ سمجھے ہونگے، تاہم ایک بات مجھے بھی سمجھ آئی ہے اور وہ ایک بات یہ ہے کہ "طاقتور جب جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو قانون کمزور پڑ جاتا ہے اور انصاف محض ایک لفظ بن کر رہ جاتا ہے۔۔۔۔ اور ہاں یہ بھی انہی فائلز سے ہی سمجھ لیجئے کہ مضبوط ادارے قانون کے آگے طاقتور کو قانونی طور پر جھکاتے ہیں، جبکہ کمزور ادارے طاقتور کے آگے قانون سمیت جھک جاتے ہیں۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

 ایپسٹین فائلز کو ہلکا نہ لیجئے۔ امریکی قانون سازوں نے ایک سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین کے اثاثوں سے حاصل کردہ بیس ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کی ہیں، جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق پاکستانی وزیراعظم عمران خان، ٹرمپ کے سابق مشیر سٹیو بینن، سابق شہزادہ اینڈریو ماؤنٹبیٹن ونڈسر اور دیگر اہم شخصیات کے نام شامل ہیں۔ اگرچہ ایپسٹین اب موجود نہیں، یہ دستاویزات اس کے وسیع اور پیچیدہ نیٹ ورک کی واضح تصویر پیش کرتی ہیں اور عالمی سطح پر گہری توجہ اور مباحثے کا سبب بنی ہیں۔ یہ فائلز نام نہاد انسانیت کے علمبرداروں کے ہاں طاقت، دولت اور خاموشی کے گٹھ جوڑ کا دستاویزی ثبوت ہیں۔ یہ وہ عدالتی ریکارڈ ہیں، جو بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کے نام سے وابستہ ہوئے اور اسی نسبت سے ایپسٹین فائلز کہلائے۔ نام ایک فرد کا ہے، مگر مفہوم ایک پورے نظام پر محیط ہے۔ ان فائلز میں فرد کی لغزش بھی ہے اور اداروں کی کمزوری بھی۔

یہ معاملہ دو ہزار کی دہائی کے آغاز میں سامنے آیا اور سن 2019ء میں عالمی توجہ کا مرکز بنا۔ جیفری ایپسٹین کی گرفتاری، موت اور پھر دستاویزات کی اشاعت نے اس قصے کو دبنے نہ دیا۔ عدالتوں میں کھلنے والی فائلز نے بتدریج وہ روابط آشکار کیے، جو برسوں پردے میں رہے۔ یوں ایپسٹین فائلز ماضی کا واقعہ نہیں رہیں بلکہ حال کی بحث بن گئیں۔ یاد رہے کہ قانون کی نظر میں یہ دستاویزات شہادت ہیں اور شہادت فیصلہ نہیں ہوتی۔ ناموں کا ظاہر ہونا الزام نہیں کہلاتا اور تعلق کا ذکر جرم نہیں بنتا۔ اس کے باوجود طاقتوروں کے باہمی تعلقات میں عام آدمی کیلئے چھپے خطرات اب سب کے سامنے آگئے ہیں۔ اگر اس وقت ان کا احتساب نہیں ہوگا تو پھر کبھی نہیں ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر بھی اسی دائرے میں آتا ہے۔ موصوف کا نام ایپسٹین کے سماجی تعلق داروں کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ الگ زاویہ ہے کہ یہ تعلق حقیقت میں اشرافی میل جول تک محدود رہا یا اس سے بھی آگے کا تھا۔ البتہ ابھی تک کسی عدالت نے اسے مجرمانہ رابطہ قرار نہیں دیا۔ اس کے باوجود سیاست دانوں  کے ایسے سماجی تعلقات عوام کے لئے کیا پیغام رکھتے ہیں، وہ اب عوام ہی بتائیں گے۔ البتہ قابل ذکر ہے کہ میڈیا نے اس فرق کو پوری طرح برقرار نہیں رکھا۔ خبر نے قلم سے رفتار پائی اور مفہوم سکرین سے پیچھے رہ گیا۔ پبلک کے سامنے سرخی نے فیصلہ سنایا اور وضاحت حاشیے میں چلی گئی۔ یہی قلم کا امتحان ہوتا ہے، ایسی ہی صورتحال میں صحافت آزمائش میں پڑتی ہے اور سچ دباؤ میں آتا ہے۔

بلاشبہ اخلاقی سطح پر ایپسٹین فائلز ایک نمایاں دھبہ ہیں، امریکی سوسائٹی کے چہرے پر۔ امریکہ میں اب یہ چیلنج سامنے آگیا ہے کہ امریکی معاشرے میں طاقتور کا احتساب کہاں تک ممکن ہے اور کمزور کی آواز کب سنی جائے گی۔؟ متاثرین کی موجودگی اس کہانی کی اصل بنیاد ہے اور ان کی خاموشی اس نظام، اداروں، معاشرے اور سیاست کی سب سے بڑی ناکامی۔ ایپسٹین فائلز بے ںس لوگوں کی مظلومیت کا انجام نہیں ہیں بلکہ اعلان ہیں۔ یہ اعلان انصاف کی تاخیر کا بھی ہے اور اصلاح کی ضرورت کا بھی۔ یہ فائلز عالمی انسانی برادری کو یاد دلا رہی ہیں کہ قانون کاغذ پر نہیں، کردار میں زندہ رہتا ہے۔ قانون کو کاغذوں سے کردار میں ڈھالنے کی ہر جگہ ضرورت ہے اور شاید سب سے زیادہ ضرورت امریکہ میں ہے۔

ان فائلز سے پتہ نہیں آپ کیا کچھ سمجھے ہونگے، تاہم ایک بات مجھے بھی سمجھ آئی ہے اور وہ ایک بات یہ ہے کہ "طاقتور جب جواب دہی سے آزاد ہو جائے تو قانون کمزور پڑ جاتا ہے اور انصاف محض ایک لفظ بن کر رہ جاتا ہے۔۔۔۔ اور ہاں یہ بھی انہی فائلز سے ہی سمجھ لیجئے کہ مضبوط ادارے قانون کے آگے طاقتور کو قانونی طور پر  جھکاتے ہیں، جبکہ کمزور ادارے طاقتور کے آگے قانون سمیت جھک جاتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایپسٹین فائلز فائلز سے ایک بات جاتا ہے کے آگے ہے اور

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • جیفری ایپسٹین سے روابط رکھنے والے ماڈلنگ اسکاؤٹ کی پیرس میں پراسرار موت
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • جیفری ایپسٹین کیس سے جڑے معروف نام ڈینیئل سیاد کی فرانس میں پراسرار موت
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن