Daily Mumtaz:
2026-07-24@01:09:32 GMT

غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے تیار ہیں ،سراج الدین حقانی

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے تیار ہیں ،سراج الدین حقانی

پاکستان کیلئے مفاہمتی پیغام کے طور پر طالبان عبوری حکومت کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ریاست کیلئے خطرہ نہیں اور وہ غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے تیار ہے۔

کابل پولیس اکیڈمی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سراج الدین حقانی نے اعلان کیا کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔

افغان سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پابندی جاری رکھے ہوئے ہے اور افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

تاہم ماضی کے وعدوں اور دوحا معاہدے میں کی گئی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان میں سرحد پار دراندازی اور عسکریت پسندوں کے حملے بدستور جاری ہیں۔

سراج الدین حقانی نے کہا کہ افغانستان کسی بھی ملک یا خطے کے لیے خطرہ نہیں اور طالبان قیادت عالمی برادری کے ساتھ بداعتمادی اور غلط فہمیوں کے خاتمے کیلئے معقول اور دیرپا حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔

اگرچہ سراج الدین حقانی نے پاکستان کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ بظاہر پاکستان کے اس دیرینہ مطالبے کی طرف تھا جس میں کابل سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو لگام دینے کا کہا جاتا رہا ہے۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات سرحدی جھڑپوں کے بعد کشیدہ ہیں، جن کے نتیجے میں 11 اکتوبر 2025 سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدیں بند ہیں۔

ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے فریقوں کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوششیں بھی ناکام رہیں، جبکہ پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو قابو میں رکھنے کیلئے تحریری یقین دہانی دینے سے انکار کیا، جس کے جنگجو اس کے بقول 2600 کلومیٹر طویل غیرمحفوظ سرحد کے ذریعے پاکستان میں داخل ہو کر حملے کرتے رہے ہیں۔

سراج الدین حقانی کے یہ بیانات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ٹی ٹی پی نے ان سے بیعت لے رکھی ہے اور طویل عرصے سے افغانستان کے اُن علاقوں سے سرگرم ہے جو ان کے کنٹرول میں رہے ہیں۔

اسی وجہ سے سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی انس حقانی قطر اور ترکیہ میں پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کرنے والی افغان طالبان ٹیم کا حصہ تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سراج الدین حقانی نے نے کہا

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف