ایم سی جی کیوریٹر کا باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ کی پچ پر حیرانگی اور مایوسی کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
میلبرن کرکٹ گراؤنڈ کے کیوریٹر نے باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ کی پچ پر حیرانگی اور مایوسی کا اظہار کردیا۔
انگلینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان 2 دن میں ٹیسٹ میچ ختم ہونے کی وجہ سے ایم سی جی کی پچ بہت زیادہ زیرِ بحث ہے اور میلبرن کرکٹ کلب اور کیوریٹر کو پچ کی وجہ سے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ایم سی جی کی پچ بنانے والے کیوریٹر میتھیو پیج نے ایم سی سی کے چیف ایگزیکٹو اسٹیورٹ فوکس کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایم سی جی کی پچ کے باعث بہت زیادہ حیرانگی کے عالم میں ہوں، میں اس طرح کے ٹیسٹ میچ کا کبھی حصہ نہیں رہا اور امید ہے آئندہ بھی نہیں ہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ چوتھے اور پانچویں روز تک بیٹ اور بال میں توازن برقرار رہے، ہمیں بڑی مایوسی ہے کہ باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ صرف دو دن رہا۔
اس موقع پر چیف ایگزیکٹو ایم سی سی اسٹیورٹ فوکس نے کیوریٹر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 8 برس پہلے میتھیو پیچ کی خدمات حاصل کیں وہ ملک کا ایک بہترین کیوریٹر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میتھیو پیج کی صلاحیت پر یقین ہے اور رہے گا، کیوریٹر اور ان کی ٹیم نے بہت اچھا کام کیا ہے، کیوریٹر میچ جلدی ختم ہونے پر مایوس ہے اس نے اسکی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔
ایک اندازے کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا کو باکسنگ ڈے ٹیسٹ میچ دو دن میں ختم ہونے کی وجہ سے 10 ملین ڈالرز سے زائد کے ریونیو کا نقصان ہوا ہے، ٹیسٹ کے تیسرے روز 90 ہزار تماشائیوں نے میچ دیکھنے آنا تھا۔
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق تیسرے اور چوتھے روز کے ٹکٹ آٹومیٹک طریقے سے فینز کو واپس کیے جا رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل پرتھ ٹیسٹ بھی 2 روز میں ختم ہونے کے باعث کرکٹ آسٹریلیا کو 4 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایم سی جی کی ختم ہونے کہا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔