یہ کہیں اور ہوتا تو کہرام مچ جاتا؛ فتح کے باوجود بین اسٹوکس کی کڑی تنقید
اشاعت کی تاریخ: 27th, December 2025 GMT
انگلینڈ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس کا کہنا ہے کہ اگر ایم سی جی جیسی پچ دنیا کے کسی دوسرے حصے میں دی جاتی تو کہرام مچ جاتا۔
ہفتے کے روز انگلینڈ کی ٹیم نے آسٹریلیا میں جاری ایشز سیریز کا چوتھا میچ محض دو دنوں میں جیت لیا۔ آخری بار 1912 میں ہونے والی ایشز سیریز میں ایک سے زیادہ ایسے ٹیسٹ میچز ہوئے تھے جو دو دن میں ختم ہوگئے ہوں۔
آسٹریلیا نے مجموعی طور پر دو دن تک جاری رہنے والے صرف چار ٹیسٹ میچز کی میزبانی کی ہے، دو اس سیریز میں اور تیسرا 2022 میں گابا میں کھیلا گیا تھا۔
پورے میچ میں پچ میں موجود سِیم کی وجہ سے بیٹرز کو مشکلات کا سامنا رہا اور آسٹریلیا میں 1932 کے بعد سے یہ پہلا ٹیسٹ ہے جس میں کوئی بیٹر 50 رنز اسکور نہیں کر سکا۔
میچ کے بعد گفتگو میں انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے بے باکی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
بین اسٹوکس کا کہنا تھا کہ یہ میچ وہ نہیں تھا جو آپ چاہتے ہیں۔ آپ ایسا گیم نہیں چاہتے جو دو دن سے کم وقت میں ختم ہوجائے۔ لیکن ایک بار گیم شروع ہوجائے کچھ نہیں کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اتنا یقین ہے کہ اگر یہ دنیا میں کسی اور جگہ ہوا ہوتا تو کہرام مچا ہوا ہوتا۔ یہ اس کھیل کے لیے اچھی چیز نہیں ہے جس کو پانچ دن تک جاری رہنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بین اسٹوکس
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔