پاک‘ ایران تعلقات میں نوائے وقت کا اہم کردار: قونصل جنرل‘ دورہ ہیڈ آفس
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
لاہور (سپیشل کارسپانڈنٹ) ایران کے لاہور میں قونصل جنرل مسٹر مہران موحد فر نے نوائے وقت اور دی نیشن دفاتر کا دورہ کیا اور نوائے وقت گروپ کے چیف آپریٹنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل (ر) سید احمد ندیم قادری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ڈائریکٹر مارکیٹنگ بلال محمود، ہیڈ آف ہیومین ریسورسز چودھری شفیق سلطان اور سپیشل کارسپانڈنٹ خاور عباس سندھو بھی موجود تھے۔ ایرانی قونصل جنرل پاکستان اور ایران کے دوستانہ تعلقات کے فروغ میں نوائے وقت گروپ کے نمایاں کردار، نیز قیام پاکستان کے دوران اس ادارے کی جاندار صحافت اور امتِ مسلمہ کی حمایت پر خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے بالخصوص محترمہ رمیزہ مجید نظامی، منیجنگ ڈائریکٹر ، کا خصوصی طور پر نام لیا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ لیفٹیننٹ کرنل (ر) سید احمد ندیم قادری نے تفصیل سے نوائے وقت کی تاریخ اور اس کے سنہری کردار پر روشنی ڈالی کہ خود نام ”نوائے وقت“ فارسی ہے، جسے 1940ءمیں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ہدایت پر قائم کیا گیا اور اس نے تحریکِ آزادی پاکستان کی کامیابی میں نہایت مو ثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ادارہ آج بھی منیجنگ ڈائریکٹر محترمہ رمیزہ مجید نظامی کی قیادت میں پاکستان، ریاستی مفادات اور قومی ادارے، خصوصاً پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ ایرانی قونصل جنرل نے کہا کہ بھارت کے ساتھ چار روزہ سرحدی کشیدگی کے دوران پاک فوج اور پاکستانی عوام نے دانائی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس قوم نے علامہ اقبال کے فلسفے کو پڑھا ہو، اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے پاک فوج کی جرات اور کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے غزہ کے معاملے میں فلسطینی عوام کو سب سے زیادہ امداد فراہم کی۔ اسرائیل کی جانب سے ایران پر جارحیت کے دوران پاکستان نے تہران کی حمایت کی، جس پر ایران میں وسیع پیمانے پر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ سرکاری سطح پر، تاجر سے تاجر تجارت، عوامی روابط اور باہمی تجارت کے فروغ کا خواہاں ہے، انہوں نے ایران کے لیے پاکستان کی سفارتی اور اخلاقی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے تعلقات روز بروز بہتر ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب خطے کا ایک اہم ملک ہے اور ہمارے اس کے ساتھ روابط قائم اور وسعت پذیر ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک معاہدہ ایک خوش آئند ہے، جس کا ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی اردشیر لاریجانی نے اسلام آباد کے دورے کے دوران خیر مقدم کیا۔ قونصل جنرل نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے نوائے وقت کے دورے کے خواہاں تھے۔ روابط کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ اس موقع پر لیفٹیننٹ کرنل (ر) سید احمد ندیم قادری نے ادارے کی جانب سے ایران کے قونصل جنرل کو یادگاری شیلڈ پیش کی اور انہیں نوائے وقت میں شائع ہونے والے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو سے متعلق تحقیقی مضامین اور ایران۔چین تعاون کے حق میں شائع مضامین بھی دکھائے۔ انہوں نے قونصل جنرل کے نوائے وقت کے دفاتر کے دورے کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
ایرانی قونصل جنرل
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ نوائے وقت ایران کے کے دوران
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔