پنجگور:فورسز کا آپریشن ،بھارتی سپانسرڈ 4 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
اسلام آباد/راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع پنجگور میں انڈین پراکسی فتنہ الخوارج کی موجودگی کی اطلاعات پر انٹلیجنس بیسڈ آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کا موثر گھیراو کیا، ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے میں چار بھارتی سپانسرڈ خوارج واصل جہنم کردئیے گئے، خوارج کے قبضے سے اسلحہ ، ایمونیشن اور دھماکہ خیز مواد برآمد کرلیا گیا جو علاقے میں کئی دہشتگردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے ۔ترجمان آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں کسی اور انڈین سپانسرڈ خوارج کی موجودگی کے خاتمے کیلئے سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی کے منظور کردہ عزم استحکام وڑن کے تحت دہشتگردی سے تسلسل اور پوری قوت سے نمٹ رہے ہیں جو ملک سے غیر ملکی سپانسرڈ دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پر عزم ہیں ۔علاوہ ازیں وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ضلع پنجگور میں 4 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے وزیر اعظم نے کہا انسانیت کے دشمن دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیں گے دہشتگردی کے خلاف عزم استحکام میں پوری قوم سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔پنجگور میں 4دہشتگردوںکو ہلاک کرنے پر وزیراعلیٰ مریم نواز اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کامیاب آپریشن پر جوانوں کی بہادری کو سلام پیش کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔