اٹلی نے پاکستانی شہریوں کے لیے نوکریوں میں کوٹہ مختص کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
روم:اٹلی نے پاکستانی شہریوں کے لیے نوکریوں میں باضابطہ کوٹہ مختص کر دیا ہے، جس کے بعد یہ یورپ کا پہلا ملک بن گیا ہے جو پاکستانی ورک فورس کے لیے روزگار کے مواقع مخصوص کر رہا ہے۔
وزارتِ اوورسیز پاکستانیز کے مطابق اٹلی نے پاکستان کو آئندہ تین سال کے لیے مجموعی طور پر ساڑھے دس ہزار نوکریوں کا کوٹہ فراہم کیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت ہر سال تقریباً 3,500 پاکستانی شہری روزگار کے لیے اٹلی جا سکیں گے، جن میں 1,500 سیزنل اور 2,000 نان سیزنل کوٹے پر ہوں گے۔ یہ مواقع شپ بریکنگ، زراعت اور ہیلتھ کیئر سمیت مختلف شعبوں میں دستیاب ہوں گے۔
وزارتِ اوورسیز کے مطابق پاکستانی ہنرمند اور نیم ہنرمند افراد کے لیے ویلڈرز، ٹیکنیشنز، شیف، ویٹرز اور ہاؤس کیپنگ کے شعبوں میں ملازمت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جبکہ نرسنگ، میڈیکل ٹیکنیشن، فارمنگ اور کاشتکاری جیسے شعبوں میں بھی روزگار کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
پاکستان اور اٹلی کے درمیان جوائنٹ ورکنگ گروپ کا دوسرا اجلاس فروری میں اسلام آباد میں منعقد ہوگا، جس میں لیبر تعاون کو مزید فروغ دینے اور نئے مواقع پیدا کرنے پر بات چیت کی جائے گی۔
وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ یورپی لیبر مارکیٹ میں پاکستانی ورک فورس کے لیے نئے دروازے کھولے گا، حکومت پاکستانی محنت کشوں کو عالمی سطح پر باعزت روزگار فراہم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔