پاکستان کے دیرینہ مطالبے پر تلخ اشارہ: افغان وزیر داخلہ نے دنیا کے سامنے کیا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
پاکستان کیلئے مفاہمتی پیغام کے طور پر طالبان عبوری حکومت کے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک کسی بھی ریاست کیلئے خطرہ نہیں اور وہ غلط فہمیوں کے ازالے کے لیے تیار ہے۔کابل پولیس اکیڈمی کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سراج الدین حقانی نے اعلان کیا کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔افغان سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پابندی جاری رکھے ہوئے ہے اور افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔تاہم ماضی کے وعدوں اور دوحا معاہدے میں کی گئی یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان میں سرحد پار دراندازی اور عسکریت پسندوں کے حملے بدستور جاری ہیں۔ سراج الدین حقانی نے کہا کہ افغانستان کسی بھی ملک یا خطے کے لیے خطرہ نہیں اور طالبان قیادت عالمی برادری کے ساتھ بداعتمادی اور غلط فہمیوں کے خاتمے کیلئے معقول اور دیرپا حل تلاش کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔اگرچہ سراج الدین حقانی نے پاکستان کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ بظاہر پاکستان کے اس دیرینہ مطالبے کی طرف تھا جس میں کابل سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو لگام دینے کا کہا جاتا رہا ہے۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات سرحدی جھڑپوں کے بعد کشیدہ ہیں، جن کے نتیجے میں 11 اکتوبر 2025 سے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدیں بند ہیں۔ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے فریقوں کے درمیان مفاہمت کرانے کی کوششیں بھی ناکام رہیں، جبکہ پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان نے ٹی ٹی پی کو قابو میں رکھنے کیلئے تحریری یقین دہانی دینے سے انکار کیا، جس کے جنگجو اس کے بقول 2600 کلومیٹر طویل غیرمحفوظ سرحد کے ذریعے پاکستان میں داخل ہو کر حملے کرتے رہے ہیں۔سراج الدین حقانی کے یہ بیانات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ٹی ٹی پی نے ان سے بیعت لے رکھی ہے اور طویل عرصے سے افغانستان کے اُن علاقوں سے سرگرم ہے جو ان کے کنٹرول میں رہے ہیں۔اسی وجہ سے سراج الدین حقانی کے چھوٹے بھائی انس حقانی قطر اور ترکیہ میں پاکستانی حکام کے ساتھ مذاکرات کرنے والی افغان طالبان ٹیم کا حصہ تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سراج الدین حقانی نے
پڑھیں:
پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔
ویسٹ انڈیز کی قیادت روسٹن چیز کریں گے جبکہ جومیل واریکن کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔
اسکواڈ میں جوشوا بیشپ، تیج نارائن چندرپال، جوشوا ڈی سلوا، جسٹن گریوز، کیوم بوج، شے ہوپ، عامر جینگو، شیمار جوزف، برینڈن کنگ، کرک میک کینزی، گڈاکیش موتی، کیمو پال، کیمار روچ، جیڈن سیلز اور جومیل واریکن شامل ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا آغاز 25 جولائی سے ہوگا۔
View this post on Instagramقومی ٹیم نے آخری مرتبہ 2023 میں سری لنکا کو اس کی سرزمین پر 2-0 سے ٹیسٹ سیریز میں شکست دی تھی، تاہم اس کے بعد پاکستان مسلسل سات بیرونِ ملک ٹیسٹ میچ ہار چکا ہے۔
اس سیریز میں پاکستان کی قیادت دوبارہ بابر اعظم کر رہے ہیں جنہیں شان مسعود کی جگہ ٹیسٹ ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔