ویب ڈیسیک: وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے بہت سارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت سے آپریٹ ہوتے ہیں، پاکستان مخالف پروپیگنڈا کو طول دینے کیلئے بھارت سے سوشل میڈیا اکاؤنٹس آپریٹ ہوتے ہیں۔

 بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پاکستان اور اس کی سالمیت کے خلاف منظم پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، پی ٹی آئی کی سیاست جھوٹ،منفی بیانیے پر مبنی ہے، یہ سیاسی میدان کی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔

برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں کمی

 انہوں نے کہا کہ عوام کے سامنے حقیقت اورحقائق موجود ہیں، تمام ترجھوٹ پر مبنی چیزوں کو پھیلایا جاتا اورعوام کی ذہن سازی کی جاتی ہے، پی ٹی آئی بہت فخر سے کہتی ہے ہم سوشل میڈیا پر بہت مقبول ہیں، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا پر زیادہ تر فیک اکاؤنٹس ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو درحقیقت عوامی حمایت حاصل نہیں، یہ منظم دھوکا اورفریب ہے، پی ٹی آئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی کوئی ایسی سرگرمی نہیں جو عوام کیلئے فائدہ مند ہو، پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر حقیقی فالوورز نہ ہونے کے برابر ہے۔

 کنٹریکٹ اور ایڈہاک ڈاکٹرز کی تعیناتیاں ختم کرنے کا اعلان  

 بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پی ٹی آئی کہتی ہے ہمارے ایکس پر 10ملین سے زیادہ فالوورز ہیں، ٹی آئی بتانا چاہتی ہے ان کے ایکس پر سب سے زیادہ فالوورزہیں، پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر جھوٹے فالوورز دکھاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر پی ٹی ا ئی کے کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف