چکوال: معرکۂ حق میں قربانی دینے والے ہیروز کے نام خصوصی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین چکوال میں افواجِ پاکستان کے لیے محبت اور احترام کا ایک شاندار مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ میاں گروپ آف چکوال (MGC) اور فاروقی گروپ کی جانب سے ’ہماری فوج ہمارا فخر ہے‘ کے عنوان سے ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ان کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
تقریب کا مقصد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور افواج پاکستان کو آپریشن بنیان المرصوص اور معرکۂ حق میں تاریخی کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔
تقریب کے شرکاتقریب میں تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، معززین شہر، اساتذہ، سیاسی اور سماجی شخصیات، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، اور طلباء نے بھرپور شرکت کی۔ طلباء نے ملی نغموں اور تقاریر کے ذریعے پاک فوج کو زبردست ٹریبیوٹ پیش کیا، جبکہ شہداء کے اہلِ خانہ کے لیے شیلڈز اور تحائف بھی تقسیم کیے گئے۔
منتظمین کا پیغامتقریب کے منتظمین چوہدری نعمان افتخار اور شیخ ریاض فاروقی نے وی نیوز کو بتایا کہ
جو اعتماد فیلڈ مارشل صاحب نے ہمیں دیا، اس کا کوئی متبادل نہیں۔ ان کے کردار اور قربانیوں کو الفاظ میں بیان کرنا کم ہے، اور یہ عزت اللہ کی جانب سے دی گئی ہے۔ معرکۂ حق اور باطل میں ان کی خدمات ہمارے لیے قابل تقلید اور مشعلِ راہ ہیں۔
اینکر پرسن فرح سعدیہ نے کہا کہ یہ تقریب قوم اور فوج کے مضبوط رشتے کی عکاس ہے۔
سابق سینئر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم نے کہا کہ قوم اور فوج کا اتحاد ہی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔
تقریب حب الوطنی، قربانی اور اتحاد کا پیغام لیے ہوئی تھی، اور چکوال کی فضاء ’پاک فوج زندہ باد‘ اور ’پاکستان زندہ باد‘کے نعروں سے گونج اُٹھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔