پاکستان نے وائٹ ہاؤس کو کیسے اپنا ہم نوا بنایا؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماہرین کے مطابق پاکستان کی جانب سے وائٹ ہاؤس کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوششیں کامیاب ثابت ہو رہی ہیں۔ کابل ایئرپورٹ حملے کے مرکزی ملزم محمد شریف اللہ کی گرفتاری اور اسے امریکا کے حوالے کرنے سے پاکستان اور واشنگٹن کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے خطاب کے دوران پاکستان کا کھل کر شکریہ ادا کیا اور اس اقدام کو ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی واقعہ ٹرمپ انتظامیہ اور پاکستان کے تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کے برعکس پاکستان نے سفارتی محاذ پر برتری حاصل کی، جہاں پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کر کے مثبت پیغام دیا۔ کشمیر بحران کے دوران بھارت نے امریکی ثالثی کو مسترد کیا، جبکہ پاکستان نے سفارتی راستہ اپناتے ہوئے واشنگٹن میں مؤثر لابنگ کی اور ٹرمپ کے قریبی مشیروں سے روابط استوار کیے۔
ماہرین کے مطابق جنرل عاصم منیر کے وائٹ ہاؤس دورے کو غیر معمولی اہمیت حاصل رہی، جسے صدر ٹرمپ نے بھی سراہا۔ پاکستان نے خود کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر پیش کیا، خاص طور پر خلیجی ممالک اور سعودی عرب کے ساتھ مضبوط تعلقات کی بنیاد پر۔
اس کے علاوہ امریکا کے ساتھ 6 ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنی وسائل سے متعلق معاہدے نے بھی عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ کیا ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ پاکستان نے اہم سفارتی کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن کمزور معیشت اور علاقائی عدم استحکام مستقبل میں بڑے چیلنجز بن سکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان نے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔