سی ای او سرگودھا اور قائم مقام ایم ایس ٹی ایچ کیو کوٹ مومن کو ہٹا دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
لاہور(نوائے وقت رپورٹ) فرائض میں غفلت برتنے پر کوٹ مومن تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتا ل کے قائمقام ایم ایس اور سرگودھاکے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا -چیف ایگزیٹو آفیسر ہیلتھ ڈاکٹر سارہ کو فوری طورپر عہدے سے ہٹا نے کاحکم نامہ جاری کردیا گیا- ڈاکٹر سارہ کوفوری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے-ٹی ایچ کیو ہسپتال کوٹ مومن کے قائمقام ایم ایس ڈاکٹر فہد شاہین کو بھی فرائض میں کوتاہی پر ہٹا دیا گیا۔ڈاکٹر فہد شاہین کو ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ رپورٹ کرنے کا حکم دیاگیا -وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر معاون خصوصی شعیب مرزا نے رات گئے ٹی ایچ کیوہسپتال کوٹ مومن کا دورہ کیا-صوبائی معاون خصوصی شعیب مرزاکے دورے کے دوران ہسپتال میں ایک ہی ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود تھا،باقی غائب تھے -ڈاکٹر کی غفلت کی وجہ سے زچگی کی مریضہ کو تکلیف کے ساتھ آدھا گھنٹہ انتظار کرنا پڑا۔ صوبائی معاون خصوصی شعیب مرزا کی رپورٹ پر سیکرٹری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیاہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کوٹ مومن
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔