اسرائیل کا غیرملکیوں کو اپنی فوج میں بھرتی کرنے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
جنگ کے ابتدائی مہینوں میں ایک تجرباتی منصوبے پر عملدرآمد کیلئے اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے، جس کا مقصد 100 غیر ملکی نوجوانوں کو صیہونی فوج میں شامل کرنا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی رژیم کے چینل 12 نے رپورٹ دی کہ اسرائیلی فوج، مقبوضہ علاقوں میں مقیم غیر ملکی ورکرز کے بچوں کو فوج میں شامل کرنے کے منصوبے پر غور کر رہی ہے، کیونکہ اس وقت اسرائیل کو افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جنگ کے ابتدائی مہینوں میں ایک تجرباتی منصوبے پر عملدرآمد کے لئے اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے، جس کا مقصد 100 غیر ملکی نوجوانوں کو فوج میں شامل کرنا تھا۔ یہ منصوبہ فوج، امیگریشن، ادارہ بہبود آبادی اور تل ابیب میونسپلٹی کے تعاون سے تیار کیا گیا۔ تاہم، مذکورہ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کے استعفے کے بعد یہ منصوبہ روک دیا گیا۔ امیگریشن و پاپولیشن کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق، غیر ملکی ورکرز کے ایسے بچوں کی تعداد جو فوجی خدمت کی عمر (15 سے 25 سال) میں ہیں، تقریباً 3752 ہے۔
ان میں سے زیادہ تر ورکرز فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور تقریباً 3200 افراد عارضی رہائشی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ مقبوضہ علاقوں میں فوجی خدمت کا قانون، اصولی طور پر مستقل رہائشی پرمٹ رکھنے والے غیر ملکیوں کو فوج میں شامل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ تاہم، اسرائیلی فوج نے اب تک ان افراد کو شامل کرنے سے گریز کیا ہے۔ کیونکہ اس سے ان کی شہریت کے حصول کے عمل پر اثر پڑنے اور قانونی دائرہ کار میں تداخل کا خدشہ ہے۔ اس کے باوجود، حالیہ قانونی خط و کتابت اور فوری طور پر افرادی قوت بڑھانے کی ضرورت نے اسرائیلی فوج کو اس معاملے پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس صورت حال پر صیہونی چیف آف آرمی سٹاف کے دفتر نے اعلان کیا کہ یہ معاملہ متعلقہ اداروں کو بھیج دیا گیا ہے اور اس پر غور جاری ہے۔ دوسری جانب صیہونی وزیر جنگ "یسرائیل کاٹز" نے کہا کہ یہ معاملہ ابھی تک ان کے سامنے پیش نہیں کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔