شوگر ملوں کی مانیٹرنگ ڈیوٹی سےغیرحاضر چھ ایف بی آراہلکار معطل
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
ویب ڈیسک: ایف بی آر نےشوگر ملوں کی مانیٹرنگ ڈیوٹی سے غیرحاضر رہنے والےچھ اہلکارمعطل کردیئے۔
ایف بی آر کےمطابق اہلکارشوگرکی پیداوارکی مؤثر،شفاف اوربلا تعطل نگرانی یقینی بنانے کیلئے تعینات کیےگئےتھے،ان کی غیرحاضری کا انکشاف ایل ٹی او لاہورکی معمول کی مانیٹرنگ کے دوران ہوا،ایل ٹی اولاہور نےمتعلقہ افسران کیخلاف تادیبی کارروائی شروع کرنے کی سفارش کی ہے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ غفلت برتنے پر ان اہلکاروں کوفوری طورمعطل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں،ایف بی آرتمام فیلڈ فارمیشنز میں نظم و ضبط،دیانتداری اور پیشہ ورانہ معیاربرقرار رکھنےکیلئےپرعزم ہے،فرائض میں غفلت، بدانتظامی یا تفویض کردہ ذمہ داریوں کی عدم تعمیل پر قانون کےتحت سختی سے نمٹا جائے گا
برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت میں کمی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ایف بی ا
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔