فرانسیسی سینما کی پہچان 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
فرانس کی معروف فلمی اداکارہ اور عالمی شہرت یافتہ فنکارہ بریجٹ بارڈو 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔ ان کے انتقال کی تصدیق بریجٹ بارڈو فاؤنڈیشن نے اتوار کے روز کی ہے۔
اے ایف پی کو جاری کیے گئے بیان میں فاؤنڈیشن نے کہا کہ
بریجٹ بارڈو فاؤنڈیشن انتہائی رنج و غم کے ساتھ اپنی بانی اور صدر، عالمی شہرت یافتہ اداکارہ اور گلوکارہ محترمہ بریجٹ بارڈو کے انتقال کا اعلان کرتی ہے، جنہوں نے اپنی شاندار فلمی زندگی ترک کر کے اپنی تمام تر توانائیاں جانوروں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے وقف کر دیں۔
یہ بھی پڑھیے مشہور آسٹریلوی اداکارہ ریچل کارپانی 45 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں
بیان میں ان کے انتقال کے وقت اور مقام کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
بریجٹ بارڈو نے 1956 میں فلم ’اینڈ گاڈ کریئیٹڈ وومن‘ (…And God Created Woman) میں اداکاری کے بعد عالمی شہرت حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے کیریئر میں 50 سے زائد فلموں میں کام کیا اور جلد ہی فرانسیسی سنیما کی ایک علامت بن گئیں۔
فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد بریجٹ بارڈو نے جانوروں کے حقوق کے لیے بھرپور جدوجہد کی اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ اسی مقصد کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی قائم کردہ فاؤنڈیشن آج بھی دنیا بھر میں جانوروں کے تحفظ اور فلاح کے لیے سرگرم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: معروف اداکارہ بینا مسرور 67 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں
بریجٹ بارڈو کو نہ صرف ان کی دلکش اداکاری بلکہ جانوروں کے حقوق کے لیے بے لوث خدمات کے باعث بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بریجٹ بارڈو فرانسیسی سینما.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بریجٹ بارڈو کی عمر میں انتقال کر بریجٹ بارڈو جانوروں کے کے لیے
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔