بنگلہ دیش میں قومی انتخابات اور ریفرنڈم سے قبل سائبر سیکیورٹی مزید سخت
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر اور نیشنل سائبر سیکیورٹی کونسل کے چیئرمین پروفیسر محمد یونس نے آنے والے پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے پیش نظر تمام شعبوں میں سائبر سیکیورٹی سخت کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔
یہ ہدایت اتوار کے روز ریاستی مہمان خانے جمنا میں منعقدہ نیشنل سائبر سیکیورٹی کونسل کے اجلاس کے دوران دی گئی۔ پروفیسر محمد یونس نے ٹیکنالوجی صلاحیت بڑھانے اور سائبر جرائم کے خلاف سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیشی فورسز کی بھارتی سرحد کے قریب کارروائی، انڈین ساختہ دھماکا خیز مواد برآمد
ان کا کہنا تھا کہ انتخابات سے قبل مضبوط آئی ٹی صلاحیتیں قائم کرنا اور ہر قسم کے سائبر خطرات کا پختہ عزم کے ساتھ مقابلہ کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت جب ملکی اور بیرونِ ملک صارفین کے لیے زیادہ شہری خدمات آن لائن منتقل کررہی ہے تو سیکیورٹی اور بلا تعطل رسائی کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط سائبر حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔
چیف ایڈوائزر نے اداروں پر زور دیا کہ وہ عوامی خدمات کے اہم شعبوں کے تحفظ کو ترجیح دیں۔ سائبر تحفظ کے ذمہ دار اداروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ سافٹ ویئر اور ہارڈویئر کی باقاعدہ اپ ڈیٹس کریں اور عملے کی تربیت میں بہتری لائیں۔
انہوں نے اداروں اور متعلقہ عملے کی سائبر تیاری جانچنے کے لیے ایک ریٹنگ سسٹم کی تجویز بھی دی۔
پروفیسر محمد یونس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مالیاتی شعبے میں کسی بھی مجرم کو قانون سے بچنے نہ دیا جائے اور نیشنل سائبر سیکیورٹی ایجنسی کو عدلیہ کے ساتھ قریبی تعاون کی ہدایت دی تاکہ سائبر ذرائع سے ہونے والے مالی جرائم کو روکا جا سکے۔
وزارتِ ڈاک، ٹیلی کمیونیکیشن اور آئی ٹی کے خصوصی معاون فیاض احمد طیب نے بتایا کہ اب تک 35 اداروں کو کریٹیکل انفارمیشن انفراسٹرکچر قرار دیا جا چکا ہے اور مزید اداروں کو بھی اس فہرست میں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔
اجلاس میں انتخابات کے دوران افواہوں، غلط معلومات، گمراہ کن اطلاعات اور دیگر سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے نیشنل سائبر سیکیورٹی ایجنسی اور بنگلہ دیش ٹیلی کمیونیکیشن ریگولیٹری کمیشن (بی ٹی آر سی) کے درمیان تعاون کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
بنگلہ دیش بینک کے گورنر احسن ایچ منصور نے کہاکہ بینکاری شعبے میں سائبر سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے اقدامات جاری ہیں اور شعبہ جاتی کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں (سی ای آر ٹیز) قائم کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کیا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: طارق رحمان نے اپنا وژن پیش کردیا، قومی اتحاد اور جامع سیاست پر زور
نیشنل سائبر سیکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ایم ڈی طیب الرحمان نے ایجنسی کی سرگرمیوں، منصوبوں اور نئے ’سائبر انسیڈنٹ رپورٹنگ اینڈ ریسپانس سسٹم‘ کی تفصیلات پیش کیں۔
نیشنل سائبر سیکیورٹی کونسل 26 اگست کو سائبر سیکیورٹی آرڈیننس 2025 کے نفاذ کے بعد قائم کی گئی تھی، جس کی سربراہی عبوری چیف ایڈوائزر کررہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بنگلہ دیش پروفیسر یونس چیف ایڈوائزر ریفرنڈم عام انتخابات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پروفیسر یونس چیف ایڈوائزر ریفرنڈم عام انتخابات وی نیوز نیشنل سائبر سیکیورٹی چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔