بھارتی فوج نے سوشل میڈیا پر پابندی کی نئی پالیسی جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
فائل فوٹو
مودی حکومت اور بھارتی ملٹری قیادت پر تنقید کے بعد بھارتی فوج نے سوشل میڈیا پر پابندی کی نئی پالیسی جاری کردی۔
بھارتی فوج کی نئی پالیسی کے تحت انسٹاگرام، فیس بک اور ایکس سمیت دیگر سوشل میڈیا ایپس پر بھارتی فوجی اہلکاروں کے کسی بھی قسم کے تبصرے، لائیک یا شیئر کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اس پالیسی کا اطلاق تمام حاضر سروس اہلکاروں پر ہوگا۔
مبصرین کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے بھارتی فوج کے اندر پائی جانے والی بے چینی، پالیسیوں پر تنقید اور فوج کو ہندوتوا نظریے کے زیرِ اثر لانے کے خدشات کارفرما ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب فوجی اہلکار اور سابق افسران کھلے عام مودی حکومت پر تنقید کر رہے ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت فوجی ادارے کو نظریاتی طور پر ہندوتوا رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے، جس پر سوشل میڈیا اور عوامی سطح پر ردِعمل سامنے آ رہا ہے، بھارتی آرمی چیف کی مذہبی رسومات میں شرکت پر بھی سوشل میڈیا پر کڑی تنقید کی گئی۔
ذرائع کے مطابق عیسائی فوجی سیموئیل کمالیسن کا کورٹ مارشل بھی سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بنا رہا، جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ انہوں نے ہندو مذہبی رسومات ادا کرنے سے انکار کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ریاست بہار میں بھارتی فوجی یونیفارم میں حکومت مخالف نعروں کی ویڈیوز وائرل ہوئیں، جبکہ بھارتی فوجیوں کی خودکشیوں اور غیر اخلاقی سرگرمیوں پر بھی سوشل میڈیا پر عوامی ردِعمل سامنے آیا۔
مبصرین کے مطابق بھارتی افسران اور جوانوں میں مودی حکومت اور عسکری قیادت کے خلاف کشیدگی پائی جاتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر بھارتی فوج مودی حکومت کے مطابق
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔