Al Qamar Online:
2026-07-24@02:22:22 GMT

بے نظیر قتل کیس؛ 18سال بعد بھی الجھی گتھیاں نہ سلجھ سکیں

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

بے نظیر قتل کیس؛ 18سال بعد بھی الجھی گتھیاں نہ سلجھ سکیں


راولپنڈی:

مسلم امہ و پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کیس کی 18سال سے الجھی گتھیاں آج تک نہ سلجھ سکیں، قتل کے بعد پیپلز پارٹی8 سال اقتدار میں رہنے باوجود بے نظیر کے اصل قاتل بے نقاب کرنے میں مکمل ناکام اور بے بس رہی۔

 10 سال مقدمہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت چلتا رہا، اب 8 سال سے کیس ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں زیر التوا ہے، گزشتہ2 سال یکم جنوری 2024 سے آج 27 دسمبر 2025تک ہائی کورٹ میں ایک بار بھی یہ عالمی شہرت یافتہ قتل کیس سماعت کیلیے مقرر نہیں ہوسکا۔



بے نظیر بھٹو سمیت 23 کارکنوں کی شہادت کی 18ویں برسی آج منائی جائے گی



صدر مملکت آصف علی زرداری کا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی اٹھارویں برسی پر پیغام

 پیپلز پارٹی اپنا صدر، چیئرمین سینٹ ہونے کے باوجود اس کیس کو سماعت کیلیے مقرر ہی نہیں کرا سکی، آئندہ31 جنوری تک اس کے سماعت کیلئے مقرر ہونے کا امکان بھی نہیں ہے، بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کو شدید سردی بادلوں میں ڈھکے موسم میں تاریخی لیاقت باغ جلسہ کے بعد واپس جاتے ہوئے لیاقت باغ چوک میں فائرنگ پھر خود کش حملہ کر کے شہید کیا گیا، ساتھ 27 کارکن بھی شہید اور 98 زخمی ہوئے۔

 مقدمہ کی4 انکوائریز تفتیش ہوئیں،اقوام متحدہ،برطانوی سکارٹ لینڈ یارڈ ٹیم،پنجاب پولیس اور آخری انکوایری ایف آئی اے نے کی،کیس کے کل 7 چالان پیش کیے گئے، سماعت کرتے 12 ججز تبدیل ہوئے،291 پیشیاں ہوئیں،57 گواہان کے بیان ریکارڈ کیے گئے، مقدمہ کی پیروی کرنے والے سینئر پراسیکیوٹر ذوالفقار چوہدری کو بھی سماعت کے دن شہید کر دیا گیا تھا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل بے نظیر بھٹو

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو