بے نظیر قتل کیس؛ 18سال بعد بھی الجھی گتھیاں نہ سلجھ سکیں
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
راولپنڈی:
مسلم امہ و پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کیس کی 18سال سے الجھی گتھیاں آج تک نہ سلجھ سکیں، قتل کے بعد پیپلز پارٹی8 سال اقتدار میں رہنے باوجود بے نظیر کے اصل قاتل بے نقاب کرنے میں مکمل ناکام اور بے بس رہی۔
10 سال مقدمہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت چلتا رہا، اب 8 سال سے کیس ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں زیر التوا ہے، گزشتہ2 سال یکم جنوری 2024 سے آج 27 دسمبر 2025تک ہائی کورٹ میں ایک بار بھی یہ عالمی شہرت یافتہ قتل کیس سماعت کیلیے مقرر نہیں ہوسکا۔
بے نظیر بھٹو سمیت 23 کارکنوں کی شہادت کی 18ویں برسی آج منائی جائے گی
صدر مملکت آصف علی زرداری کا شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی اٹھارویں برسی پر پیغام
پیپلز پارٹی اپنا صدر، چیئرمین سینٹ ہونے کے باوجود اس کیس کو سماعت کیلیے مقرر ہی نہیں کرا سکی، آئندہ31 جنوری تک اس کے سماعت کیلئے مقرر ہونے کا امکان بھی نہیں ہے، بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کو شدید سردی بادلوں میں ڈھکے موسم میں تاریخی لیاقت باغ جلسہ کے بعد واپس جاتے ہوئے لیاقت باغ چوک میں فائرنگ پھر خود کش حملہ کر کے شہید کیا گیا، ساتھ 27 کارکن بھی شہید اور 98 زخمی ہوئے۔
مقدمہ کی4 انکوائریز تفتیش ہوئیں،اقوام متحدہ،برطانوی سکارٹ لینڈ یارڈ ٹیم،پنجاب پولیس اور آخری انکوایری ایف آئی اے نے کی،کیس کے کل 7 چالان پیش کیے گئے، سماعت کرتے 12 ججز تبدیل ہوئے،291 پیشیاں ہوئیں،57 گواہان کے بیان ریکارڈ کیے گئے، مقدمہ کی پیروی کرنے والے سینئر پراسیکیوٹر ذوالفقار چوہدری کو بھی سماعت کے دن شہید کر دیا گیا تھا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل بے نظیر بھٹو
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز