مضبوط دفاع ہی طاقت کا مظہر، شہید محترمہ دلوں میں ہیں ،صدر زرداری
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
گڑھی خدا بخش :(نیوزڈیسک) صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ مضبوط دفاع ہی طاقت کا مظہر ہے۔معرکہ حق میں پاکستان کی نڈر قیادت نے بھارت کو ایسی شکست فاش دی جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا ۔شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت پر پاکستان کھپے کانعرہ لگاکر ہم نے ملک کو محفوظ کیا۔
گڑھی خدا بخش میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی اٹھارویں برسی کے مو قع پر انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کےلیے پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہاکہ شہید محترمہ عوام کےدلوں میں بستی تھیں ۔ انہوں نے عوام کے حقوق کے تحفظ اور ملک کو مضبوط بنانے کےلیے جدوجہد کی۔صدر مملکت نے کہا کہ بینظیر بھٹو کی شہادت پر پاکستان کھپے کانعرہ لگاکر ہم نے ملک کو محفوظ کیا۔
صدر مملکت نے کہاکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دشمن کو ایسی شکست فاش دی جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔ اگر کسی اور ملک نے بھی پاکستان کو نقصا ن پہنچانے کی کوشش کی تو اس کو اسی شدت سے جواب ملے گا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہاکہ پیپلزپارٹی وفاق کی علامت ،جب بھی ملک کو ضرورت پڑی ہم نے ساتھ دیا۔پاکستان کو امن و استحکام کا گہوارہ بناکر ترقی اور خوشحالی سےہمکنار کریں گے۔
گڑھی خدا بخش میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی اٹھارویں برسی کے مو قع پر ان کی روح کے ایصال ثواب کےلیے دعا کی گئی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔