نیتن یاہو کی امریکا میں ٹرمپ سے ملاقات، غزہ پر بڑا فیصلہ متوقع
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق ملاقات میں خطے سے متعلق کئی اہم امور زیرِ بحث آئیں گے، جن میں ایران کا ایٹمی پروگرام، اسرائیل اور شام کے درمیان ممکنہ سکیورٹی معاہدہ، لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی اور غزہ جنگ بندی معاہدے کے آئندہ مراحل شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو پیر کے روز امریکا میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق نیتن یاہو آج امریکا روانہ ہوں گے اور ایک روز بعد فلوریڈا میں ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ یہ رواں سال کے دوران نیتن یاہو کا ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکا کا پانچواں دورہ ہوگا۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب ٹرمپ انتظامیہ اور علاقائی ثالث اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر کے وسط میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن یاہو ممکنہ طور پر کرسمس کی تعطیلات کے دوران ان سے ملاقات کے لیے فلوریڈا آئیں گے، تاہم اس وقت ملاقات کا باقاعدہ شیڈول طے نہیں ہوا تھا۔ اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق ملاقات میں خطے سے متعلق کئی اہم امور زیرِ بحث آئیں گے، جن میں ایران کا ایٹمی پروگرام، اسرائیل اور شام کے درمیان ممکنہ سکیورٹی معاہدہ، لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی اور غزہ جنگ بندی معاہدے کے آئندہ مراحل شامل ہیں۔
اکتوبر میں ہونے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت اب تک سست روی کا شکار ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں، جبکہ ثالثوں کو خدشہ ہے کہ اسرائیل اور حماس دونوں ہی عمل درآمد میں تاخیر کر رہے ہیں۔ معاہدے کے دوسرے مرحلے کے تحت اسرائیل کو غزہ سے فوجی انخلا، حماس کے بجائے ایک عبوری فلسطینی انتظامیہ کے قیام، بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی اور حماس کے ہتھیار ڈالنے جیسے امور شامل ہیں، تاہم یہی نکات سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ امریکی میڈیا ادارے ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات کو معاہدے کے اگلے مراحل کی پیش رفت کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیلی قیادت کے رویئے پر مایوسی کا شکار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جنگ بندی معاہدے کے ٹرمپ سے ملاقات اسرائیل اور نیتن یاہو کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔