آن لائن فراڈ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا ٹاسک سی سی ڈی کو مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: آن لائن اور الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے لوگوں کو لوٹنے والوں کے خلاف کاروائی کا اختیار سی سی ڈی کو تفویض کیا جا رہا ہے۔
حکومت پنجاب سی سی ڈی کو آن لائن اور الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے عوام کو لوٹنے والے منظم گروہوں کےخلاف کاروائی کا ٹاسک سونپ رہی ہے ، فیصلہ آن لائن اور الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے معصوم شہریوں کو لوٹنے کی وارداتوں میں بے تحاشا اضافہ کے پیش نظر کیا جا رہا ہے۔
آن لائن وارداتوں کے ذریعے شہری زندگی بھر کی کمائی سے محروم ہو جاتے ہیں، تنخواہ دار اور کاروباری طبقہ ان ملزمان کا آسانی سے نشانہ بن رہے ہیں، یہ ملزمان بےنظیر انکم سپورٹ حاصل کرنے والوں کو بھی لوٹ لیتے ہیں۔
ملزمان شارٹ ٹرم اغوا برائے تاوان کی کاروائیاں بھی کرتے ہیں مگر ان کے خلاف مقدمات کا اندراج بھی نہیں ہوتا، سی سی ڈی عوام کی جمع پونجی لوٹنے والے ان ملزمان کے خلاف بھرپور ایکشن کرے گی۔
واضح رہے کہ آن لائن وارداتوں کے ذریعے ان ملزمان نے اربوں روپے کے اثاثے بھی بنا رکھے ہیں، آن لائن فراڈ کرنے والے منظم جرائم پیشہ افراد کی جائیدادوں کی قرقی کے لیے بھی قانونی کاروائی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے ذریعے ا ن لائن سی سی ڈی کے خلاف
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ