بھارت میں کشمیریوں کی ہراسانی تشویشناک ہے، محبوبہ مفتی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
پی ڈی پی کی صدر نے تحفظات کے تنازعے کے دوران آغا سید روح اللہ اور دیگر کئی سیاسی رہنماؤں کی مبینہ نظر بندی اور پابندیوں کی بھی مذمت کی۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ایک مضبوط بیان جاری کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے باہر مقیم کشمیریوں کو مبینہ طور پر ہراساں اور خوف زدہ کرنے کی خبروں پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات ملک کے مختلف حصوں میں رہنے والے کشمیری طلبہ، تاجروں اور پیشہ ور افراد کے لئے خوف اور بیگانگی کے احساس کو جنم دیتے ہیں اور حکام سے ان کی حفاظت اور عزت و وقار کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔ محبوبہ مفتی نے تحفظات کے تنازعے کے دوران آغا سید روح اللہ اور دیگر کئی سیاسی رہنماؤں کی مبینہ نظر بندی اور پابندیوں کی بھی مذمت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ مرکزی دھارے کے سیاسی رہنماؤں کو گھروں میں نظربند کرنا جمہوری اقدار اور پُرامن سیاسی اظہار کے حق کو کمزور کرتا ہے۔ پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے تمام نظر بند رہنماؤں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے تحفظات اور نمائندگی سے متعلق مسائل پر کھلے اور جمہوری مکالمے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اختلافی آوازوں کو خاموش کرنا عوامی ناراضگی میں مزید اضافہ کرے گا۔
انہوں نے مودی حکومت اور جموں و کشمیر انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ پورے بھارت میں کشمیری شہریوں کے تحفظ کے لئے ٹھوس اقدامات کریں اور جموں و کشمیر کے اندر نقل و حرکت اور اظہارِ رائے سمیت آئینی حقوق کا احترام یقینی بنائیں۔ محبوبہ مفتی نے دہرایا کہ جموں و کشمیر میں امن و معمول کے لئے جمہوری شمولیت اور شہری آزادیوں کا احترام ناگزیر ہے۔ ان باتوں کا اظہار محبوبہ مفتی نے اننت ناگ میں پارٹی ورکرز کے ساتھ ایک مخصوص عنوان کے تحت ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ خاص بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے
پڑھیں:
چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
چیف جسٹس آف پاکستان نے ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے پاکستان کی عدلیہ کی جانب سے شہدا کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے سیکیورٹی اہلکار مستونگ میں دورانِ ڈیوٹی دہشت گرد حملے میں شہید ہوئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی عدلیہ اس ناقابلِ تلافی سانحے پر سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے شہداء کے درجات کی بلندی اور اہلِ خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
مزید پڑھیںمستونگ: قومی شاہراہ پر فائرنگ، سیشن جج گن مین سمیت شہید، ایڈیشنل سیشن جج سمیت 2 افراد شدید زخمی
چیف جسٹس آف پاکستان نے زخمی ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی جلد صحت یابی کی دعا کی جبکہ شہداء سے اظہارِ عقیدت اور بلوچستان کی ضلعی عدلیہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 25 جولائی کو شیڈول جوڈیشل ویلبیئنگ کانفرنس مؤخر کر دی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا پاکستان کی عدلیہ بلاخوف و خطر انصاف کی فراہمی کے عزم پر قائم ہے، تشدد اور دہشت گردی کے واقعات قانون کی حکمرانی کے لیے ہمارے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عدلیہ ہر حال میں انصاف کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔