سونے کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں، زیورات کی برآمدات شدید بحران کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
ملک میں سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے باوجود زیورات کی برآمد کے لیے سونے کی درآمد جون سے نومبر تک صفر رہی، جبکہ اسی عرصے میں زیورات کی برآمدات بھی نہ ہونے کے برابر رہیں۔
ہفتے کے روز 10 گرام سونے کی قیمت نئی بلند ترین سطح پر پہنچ کر 4 لاکھ 7 ہزار 803 روپے جبکہ ایک تولہ سونا 4 لاکھ 75 ہزار 662 روپے میں فروخت ہوا۔ یہ قیمتیں جمعہ کے مقابلے میں بالترتیب ایک ہزار 972 اور دو ہزار 300 روپے زیادہ تھیں۔
یہ بھی پڑھیے: سونا پہنے بغیر شادی، دلہن نے نئی روایت قائم کردی
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کے باعث مقامی نرخ بڑھے، جہاں سونا 23 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 533 ڈالر فی اونس ہو گیا۔ ملک میں زیورات کی برآمدات کا شعبہ اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، جس کی بڑی وجہ 6 مئی کو ایس آر او 760 کی اچانک معطلی بنی۔
طویل کوششوں کے بعد وزارت تجارت نے 21 نومبر 2025 کو ایس آر او 2198 (آئی) 2025 جاری کیا، جس کے تحت 6 ماہ سے زائد وقفے کے بعد سونے کی درآمد اور زیورات کی برآمد کی اجازت دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی
تاہم پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے اعدادوشمار کے مطابق نومبر میں سونے کی درآمد بدستور صفر رہی، جبکہ زیورات کی برآمدات میں بھی خاطر خواہ بہتری نہ آ سکی۔ جولائی سے نومبر 2025 کے دوران پانچ ماہ میں زیورات کی برآمدات 97 فیصد کمی کے بعد صرف ایک لاکھ 13 ہزار ڈالر رہیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 82 لاکھ ڈالر تھیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان جیمز اینڈ جیولری ٹریڈرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین حبیب الرحمٰن کا کہنا ہے کہ دسمبر میں سونے کی درآمد 15 کلوگرام تک بحال ہوئی، جبکہ زیورات کی برآمدات تقریباً 50 کلوگرام رہیں، جو امریکا، برطانیہ اور دبئی بھیجی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے: سال 2025 میں سونے کی قیمتوں کا کیا رجحان رہا؟
اعدادوشمار کے مطابق یکم جنوری 2025 کو 10 گرام سونا 2 لاکھ 34 ہزار 568 روپے اور ایک تولہ 2 لاکھ 73 ہزار 600 روپے تھا۔ اب تک 10 گرام سونے کی قیمت میں ایک لاکھ 77 ہزار اور ایک تولہ میں دو لاکھ دو ہزار روپے سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق 2025 میں سونے نے تقریباً 74 فیصد منافع دیا، جو دیگر اثاثوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برآمدات درآمدات سونا قیمت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برا مدات درآمدات زیورات کی برآمدات سونے کی درآمد سونے کی قیمت میں سونے کی کے مطابق کے بعد
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔