2025 مودی کی ناکامی کا سال، طیاروں کا نقصان، سفارتی ناکامی: سرمایہ کاری رکاوٹیں کمائیں: بھارتی اخبار
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) 2025ءکا اختتام بھارتی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور ہزیمت کا سال،2025ءمیں بھارت کو عالمی سطح پر سفارتی سبکی کا سامنا کرنا پڑا‘ مودی سے وابستہ توقعات حقیقت کا روپ نہ دھار سکیں۔ بھارتی اخبار دی ہندو نے 2025ءمیں ملکی خارجہ پالیسی کو توقعات پر پورا نہ اترنے پر وعدوں کے بکھرنے کا سال قرار دے دیا۔ علامتی سفارت کاری، ذاتی تعلقات اور بیانیہ سازی حقیقی معاشی، عسکری اور سفارتی طاقت کا نعم البدل ثابت نہ ہو سکی۔ امریکا کے ساتھ تعلقات پر اخبار دی ہندو کا کہنا ہے کہ 2025ءبھارت کے لیے اس صدی کا مشکل ترین سال ثابت ہوا۔25 فیصد ٹیرف، روسی تیل پر اضافی پابندیاں اور H-1Bویزا قدغنوں نے ثابت کر دیا کہ بھارت کی واشنگٹن کے ساتھ شراکت مشروط اور مفاداتی ہے۔ چین اور روس کے حوالے سے تمام تر اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے باوجود لائن آف ایکچول کنٹرول پر کوئی ٹھوس سکیورٹی پیش رفت نہیں ہو سکی، دی ہندوسرمایہ کاری رکاوٹیں برقرار رہیں اور بھارت محض علامتی موجودگی تک محدود رہا۔ امریکی دباو کے نتیجے میں بھارت کو روسی تیل کے معاملے پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا اخبار دی ہندو نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو سنگین سکیورٹی ناکامی قرار دیا۔ بھارتی عسکری کارروائیوں کو سفارتی سطح پر عالمی حمایت نہ ملنے کا اعتراف بھی کیا گیا، طیاروں کے نقصانات پر خاموشی نے بھارت کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔ دی ہندو اخبار دی ہندو کے مطابق، بھارتی تجزیہ کار اب پاکستان کی قیادت کو “سخت گیر اور منظم صلاحیت رکھنے والی” ماننے لگے ہیں۔ اخبار دی ہندو اعتراف کرتا ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات اب تک کی سب سے کشیدہ سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ آخر میں اخبار دی ہندو نے خبردار کیا ہے کہ بھارت “وشو گرو” کے بیانیے سے نکل کر “وشو وکٹم” کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بھارت کا دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانا اصلاح اور حقیقت پسندانہ پالیسی سازی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ صرف دکھاوا کرنے والی سفارت کاری سے عملی نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے، ماہرین اخبار کا سفارتی ناکامی کا اعتراف پاکستان کے موقف کی تصدیق ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی زیادہ تر آپٹیکس پر مبنی ہے۔ ماہرین بھارتی اخبار دی ہندو کا پاکستانی قیادت کی صلاحیتوں کا اعتراف اس بھارتی دعوے کی نفی ہے کہ پاکستان کمزور یا عالمی سطح پر تنہا ہے، ماہرین بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر مظالم پر تشویش کا اظہار کرنے والے بھارت کو اپنے ملک میں اقلیتوں پر ایسے حملوں کی مذمت اور روک تھام کرنا ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔