کراچی پریس کلب پر خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کا احتجاجی مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
مختلف شیعہ تنظیموں کے نمائندگان نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج احتجاج میں یہ اعلان ہوا ہے کہ اگلا احتجاج پریس کلب پر نہیں بلکہ حکمرانوں کے گھروں کے باہر ہوگا، صدر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد
خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد
خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد
خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد
خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد
خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد
خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد
خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد
خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد
خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد
خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد
خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد
خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد
اسلام ٹائمز۔ خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں مقررین کا کہنا تھا کہ ایک اور سال گزر گیا مگر شیعہ لاپتہ جوانوں کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ علامہ صادق جعفری کا کہنا تھا کہ کسی جوان کو دس سال سے لا پتہ کیا ہوا ہے تو کسی کو 15 سال سے، ریاستی ادارے آخر کب اس مسئلہ کو سنجیدہ لیں گے؟ علماء کرام و شیعہ عمائدین کا کہنا تھا کہ ہم ایک بار پھر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کو اس مسئلہ کی جانب متوجہ کرنا چاہتے ہیں، شیعہ لاپتہ جوانوں کا مسئلہ حل ہونا چاہیئے اور ہمارے بیسیوں لاپتہ شیعہ جوان بازیاب ہونے چاہیئے، ہمارا سیدھا سیدھا مطالبہ ہے کہ ہمارے پیاروں نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو انکو عدالت میں پیش کیا جائے۔ مختلف شیعہ تنظیموں کے نمائندگان نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج احتجاج میں یہ اعلان ہوا ہے کہ اگلا احتجاج پریس کلب پر نہیں بلکہ حکمرانوں کے گھروں کے باہر ہوگا، صدر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔ سماجی رہنما خالد راؤ کا کہنا تھا کہ ہمارے پیاروں کو عدالت میں پیش نا کرنے کی وجہ سے ہمیں یہ معلوم چلتا ہے کہ قانون شکنی اس ملک میں اتنی آسان ہوگئی ہے کہ کوئی پرسانِ حال نہیں ہے، کیا ہمیں یہ بتایا جارہا ہے کہ جب تک ہم پر امن رہیں گے ہماری بات نہیں سنی جائے گی؟ ریاست کو چاہیئے کہ 30 افراد کی خاطر پوری قوم سے اپنی دشمنی نہ لے، احتجاج میں خانوادہ شیعہ لا پتہ افراد کی حمایت کے لئے کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ میں یہ
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔