مختلف شیعہ تنظیموں کے نمائندگان نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج احتجاج میں یہ اعلان ہوا ہے کہ اگلا احتجاج پریس کلب پر نہیں بلکہ حکمرانوں کے گھروں کے باہر ہوگا، صدر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد

خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد

خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد

خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد

خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد

خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد

خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد

خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد

خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد

خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد

خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد

خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد

خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد

اسلام ٹائمز۔ خانوادہ شیعہ لاپتہ افراد کی جانب سے منعقدہ احتجاجی مظاہرے میں مقررین کا کہنا تھا کہ ایک اور سال گزر گیا مگر شیعہ لاپتہ جوانوں کا کچھ پتہ نہیں چلا۔ علامہ صادق جعفری کا کہنا تھا کہ کسی جوان کو دس سال سے لا پتہ کیا ہوا ہے تو کسی کو 15 سال سے، ریاستی ادارے آخر کب اس مسئلہ کو سنجیدہ لیں گے؟ علماء کرام و شیعہ عمائدین کا کہنا تھا کہ ہم ایک بار پھر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کو اس مسئلہ کی جانب  متوجہ کرنا چاہتے ہیں، شیعہ لاپتہ جوانوں کا مسئلہ حل ہونا چاہیئے اور ہمارے بیسیوں لاپتہ شیعہ جوان بازیاب ہونے چاہیئے، ہمارا سیدھا سیدھا مطالبہ ہے کہ ہمارے پیاروں نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو انکو عدالت میں پیش کیا جائے۔ مختلف شیعہ تنظیموں کے نمائندگان نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج احتجاج میں یہ اعلان ہوا ہے کہ اگلا احتجاج پریس کلب پر نہیں بلکہ حکمرانوں کے گھروں کے باہر ہوگا، صدر ہاؤس، وزیر اعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس کے باہر احتجاج کیا جائے گا۔ سماجی رہنما خالد راؤ کا کہنا تھا کہ ہمارے پیاروں کو عدالت میں پیش نا کرنے کی وجہ سے ہمیں یہ معلوم چلتا ہے کہ قانون شکنی اس ملک میں اتنی آسان ہوگئی ہے کہ کوئی پرسانِ حال نہیں ہے، کیا ہمیں یہ بتایا جارہا ہے کہ جب تک ہم پر امن رہیں گے ہماری بات نہیں سنی جائے گی؟ ریاست کو چاہیئے کہ 30 افراد کی خاطر پوری قوم سے اپنی دشمنی نہ لے، احتجاج میں خانوادہ شیعہ لا پتہ افراد کی حمایت کے لئے کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ میں یہ

پڑھیں:

بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی

گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی