الجزائر میں بچوں کی جانب سے بڑی ڈکیتی
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
الجزائر میں بچوں کی ڈکیتی
الجزائر سٹی: الجزائر میں بچوں کی جانب سے بہت بڑی ڈکیتی دیکھنے میں آئی ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر ملک کی بڑی موبائل فون مارکیٹ میں ڈکیتی کی ایک ایسی وڈیوز وائرل ہوئیں، جن میںحیران کن طور پر کم عمر بچوں نے بہت بڑی ڈکیتی کی ہے۔ مذکورہ حوالے سے دلچسپ بات یہ ہے کہ بچوں نے واردات کا فخریہ اعتراف کرتے ہوئے اسے دہرانے کی کھلی دھمکی بھی دے رہے تھے۔
حکام کے مطابق سیکورٹی اداروں نے ان بچوں کو حراست میں لے لیا۔ وڈیو میں 10 سے 13 سال کی عمر کے بچے نظر آئے، جنہوں نے دارالحکومت الجزائر کے مشرقی علاقے الحراش کے بلفور محلے میں واقع ملک کی سب سے بڑی موبائل مارکیٹ میں دکانوں کو لوٹا۔ انہوں نے دکان داروں کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہو سکے تو اپنی دکانوں میں رات گزار کر دکھائیں، بچوں نے دعویٰ کیا کہ اس بار انہوں نے صرف 20 کروڑ سنتیم چرائے جبکہ اگر کوئی موجود نہ ہوتا تو وہ 2 ارب سنتیم تک لوٹ لیتے۔ واضح رہے کہ ایک جزائری دینار 100 سنتیم کے برابر ہوتا ہے۔ اس وڈیو نے الجزائر میں شدید عوامی رد عمل کو جنم دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: الجزائر میں
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ