طالبان کی صہیونی حکومت کے صومالیہ مخالف اقدام کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور 21 عرب و اسلامی ممالک نے بھی ہفتے کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے نام نہاد “صومالی لینڈ” کو تسلیم کرنے کے اعلان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس بیان میں اس اقدام کو ایک خطرناک نظیر اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ افغان عبوری حکومت کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے صہیونی حکومت کے اس حالیہ اقدام کی شدید مذمت کی ہے جو جمہوریۂ وفاقی صومالیہ کے خلاف صومالی لینڈ کے نام پر کیا گیا ہے۔ طالبان حکومت نے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین اور صومالیہ کی قومی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالیہ کے خلاف کیا گیا یہ اقدام کسی بھی قسم کی سیاسی یا قانونی حیثیت نہیں رکھتا اور یہ بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ اس طرح کے اقدامات خطے کے امن و استحکام کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
طالبان حکومت نے واضح کیا کہ ایسے اقدامات عالمی قوانین کے منافی ہیں اور ان کے منفی اثرات پورے خطے کی سلامتی اور استحکام پر مرتب ہوں گے۔ واضح رہے کہ صومالی لینڈ، صومالیہ کے شمال میں واقع ایک علاقہ ہے جس نے یکطرفہ طور پر علیحدگی کا اعلان تو کیا ہے، مگر اسے اب تک عالمی برادری نے تسلیم نہیں کیا۔ ادھر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اور 21 عرب و اسلامی ممالک نے بھی ہفتے کے روز ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے نام نہاد “صومالی لینڈ” کو تسلیم کرنے کے اعلان کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس بیان میں اس اقدام کو ایک خطرناک نظیر اور عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ مشترکہ بیان اسلامی تعاون تنظیم کے علاوہ ایران، ترکیہ، اردن، مصر، الجزائر، کوموروس، جبوتی، گیمبیا، عراق، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائجیریا، سلطنتِ عمان، پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان اور یمن کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا اور اردن کی وزارتِ خارجہ نے اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر شائع کیا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے “صومالی لینڈ” کو تسلیم کرنا، جو کہ جمہوریۂ وفاقی صومالیہ کا حصہ ہے، مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔ اس اقدام کو شاخِ افریقہ اور بحیرۂ احمر کے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ اس کے اثرات عالمی امن و سلامتی تک پھیل سکتے ہیں۔ مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ اقدام اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی اور بے اعتنائی کا ثبوت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ اس اقدام کو قرار دیا کیا گیا گیا کہ گیا ہے
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
فائل فوٹوآزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔