Islam Times:
2026-07-24@03:34:47 GMT

صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، ٹرمپ

اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT

صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، ٹرمپ

1991 میں صومالی لینڈ نے یکطرفہ طور پر آزادی کا اعلان کیا تھا، تاہم آج تک اقوام متحدہ کے کسی بھی رکن ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ مرکزی صومالی حکومت کے انہدام کے بعد شمالی صومالیہ کے پانچ قبائل نے خود کو ایک علیحدہ ریاست قرار دیا، مگر عالمی سطح پر صومالی لینڈ کو اب بھی صومالیہ کا ایک خودمختار علاقہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے پاس اس وقت صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ فی الحال امریکہ کا اسرائیل کے اس اقدام کی پیروی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں جس کے تحت صومالی لینڈ کو تسلیم کیا گیا ہے، تاہم اس معاملے پر غور جاری ہے۔ اس سے قبل جمعے کے روز صہیونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر صومالیہ کے شمال میں واقع علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔

یہ اعلان نیتن یاہو اور صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبداللہ کے درمیان ایک مشترکہ معاہدے پر دستخط کے بعد کیا گیا۔ صہیونی ذرائع ابلاغ کے مطابق صومالی لینڈ نے غزہ سے فلسطینی پناہ گزینوں کو قبول کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ ادھر صومالیہ کی حکومت نے صہیونی حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کی علاقائی سالمیت کے خلاف قرار دیا اور فلسطین کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ صومالیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم اسرائیل کی جانب سے ہمارے ملک کی خودمختاری پر دانستہ حملے اور شمالی صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے غیر قانونی اور ناجائز اقدام کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے بھی صہیونی وزیراعظم کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صومالیہ کی تقسیم کی حمایت کے مترادف ہے۔ اسی طرح خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل نے بھی اسرائیل کے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خطرناک خلاف ورزی اور جمہوریۂ وفاقی صومالیہ کی خودمختاری پر کھلا حملہ قرار دیا۔ قاہرہ میں صومالیہ کے سفیر اور عرب لیگ میں مستقل نمائندے علی عبدی اواری نے کہا کہ موغادیشو حکومت بنیامین نیتن یاہو کے اس بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے جس میں صومالی لینڈ کی آزادی اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی بات کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صومالیہ کی وفاقی حکومت نے عرب لیگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس اقدام کے سنگین نتائج پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس بلائے، صومالیہ کی علاقائی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے والے اس فیصلے کی مذمت کرے اور شاخِ افریقہ کے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش کی مخالفت کرے۔ صومالی سفیر نے مزید کہا کہ موغادیشو حکومت نے خود بھی ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا ہے اور ایک بار پھر صومالی لینڈ کی نام نہاد آزادی کو تسلیم نہ کرنے کے مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں یکطرفہ طور پر آزادی کا اعلان کیا تھا، تاہم آج تک اقوام متحدہ کے کسی بھی رکن ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ مرکزی صومالی حکومت کے انہدام کے بعد شمالی صومالیہ کے پانچ قبائل نے خود کو ایک علیحدہ ریاست قرار دیا، مگر عالمی سطح پر صومالی لینڈ کو اب بھی صومالیہ کا ایک خودمختار علاقہ ہی سمجھا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صومالی لینڈ کو تسلیم کے اس اقدام صومالیہ کے صومالیہ کی قرار دیا حکومت کے کہا کہ

پڑھیں:

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں  کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے  مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم