صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
1991 میں صومالی لینڈ نے یکطرفہ طور پر آزادی کا اعلان کیا تھا، تاہم آج تک اقوام متحدہ کے کسی بھی رکن ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ مرکزی صومالی حکومت کے انہدام کے بعد شمالی صومالیہ کے پانچ قبائل نے خود کو ایک علیحدہ ریاست قرار دیا، مگر عالمی سطح پر صومالی لینڈ کو اب بھی صومالیہ کا ایک خودمختار علاقہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن کے پاس اس وقت صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ فی الحال امریکہ کا اسرائیل کے اس اقدام کی پیروی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں جس کے تحت صومالی لینڈ کو تسلیم کیا گیا ہے، تاہم اس معاملے پر غور جاری ہے۔ اس سے قبل جمعے کے روز صہیونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا تھا کہ اسرائیل نے باضابطہ طور پر صومالیہ کے شمال میں واقع علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کر لیا ہے۔
یہ اعلان نیتن یاہو اور صومالی لینڈ کے صدر عبدالرحمن محمد عبداللہ کے درمیان ایک مشترکہ معاہدے پر دستخط کے بعد کیا گیا۔ صہیونی ذرائع ابلاغ کے مطابق صومالی لینڈ نے غزہ سے فلسطینی پناہ گزینوں کو قبول کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔ ادھر صومالیہ کی حکومت نے صہیونی حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک کی علاقائی سالمیت کے خلاف قرار دیا اور فلسطین کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ صومالیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم اسرائیل کی جانب سے ہمارے ملک کی خودمختاری پر دانستہ حملے اور شمالی صومالیہ کے علیحدگی پسند خطے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے غیر قانونی اور ناجائز اقدام کی سخت مذمت کرتے ہیں۔
عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط نے بھی صہیونی وزیراعظم کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام صومالیہ کی تقسیم کی حمایت کے مترادف ہے۔ اسی طرح خلیج تعاون کونسل کے سیکریٹری جنرل نے بھی اسرائیل کے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خطرناک خلاف ورزی اور جمہوریۂ وفاقی صومالیہ کی خودمختاری پر کھلا حملہ قرار دیا۔ قاہرہ میں صومالیہ کے سفیر اور عرب لیگ میں مستقل نمائندے علی عبدی اواری نے کہا کہ موغادیشو حکومت بنیامین نیتن یاہو کے اس بیان کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے جس میں صومالی لینڈ کی آزادی اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی بات کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صومالیہ کی وفاقی حکومت نے عرب لیگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے اس اقدام کے سنگین نتائج پر غور کے لیے ہنگامی اجلاس بلائے، صومالیہ کی علاقائی خودمختاری کو خطرے میں ڈالنے والے اس فیصلے کی مذمت کرے اور شاخِ افریقہ کے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی ہر کوشش کی مخالفت کرے۔ صومالی سفیر نے مزید کہا کہ موغادیشو حکومت نے خود بھی ایک ہنگامی اجلاس منعقد کیا ہے اور ایک بار پھر صومالی لینڈ کی نام نہاد آزادی کو تسلیم نہ کرنے کے مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ صومالی لینڈ نے 1991 میں یکطرفہ طور پر آزادی کا اعلان کیا تھا، تاہم آج تک اقوام متحدہ کے کسی بھی رکن ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ مرکزی صومالی حکومت کے انہدام کے بعد شمالی صومالیہ کے پانچ قبائل نے خود کو ایک علیحدہ ریاست قرار دیا، مگر عالمی سطح پر صومالی لینڈ کو اب بھی صومالیہ کا ایک خودمختار علاقہ ہی سمجھا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صومالی لینڈ کو تسلیم کے اس اقدام صومالیہ کے صومالیہ کی قرار دیا حکومت کے کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔