سہراب گوٹھ،(نیوزڈیسک)بچوں کی عمر 2، 4 اور 8 سال کے درمیان ہیں جبکہ چاروں لاشیں پھندا لگی ہیں، حکام۔رپورٹ کے مطابق ریسکیو حکام نے بتایا کہ گھر سے 4 لاشیں ملیں جن میں سے ایک لاش خاتون اور 3 بچوں کی ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ بچوں کی عمر 2، 4 اور 8 سال کے درمیان ہیں جبکہ چاروں لاشیں پھندا لگی ہیں اور بظاہر معاملہ خود کشی کا لگ رہا ہے، مرنے والوں میں 30 سال کی فاطمہ، 10سال کی سونم، 3سال کی آرزو اور 2سال کا ارمان شامل ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کے شوہر کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور معاملے کی تفتیش جاری ہے، شوہرکے بیان کے مطابق واقعہ گھریلو جھگڑے کے باعث پیش آیا۔

پولیس کے مطابق مرنے والی خاتون کا تعلق افغانستان سے ہے جبکہ شوہر نجیب اللہ کا تعلق لیہ سے ہے، نجیب اللہ سبزی منڈی میں کام کرتا ہے اور اس نے افغان خاتون سے دوسری شادی کی تھی۔

وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے سہراب گوٹھ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ سے رابطہ کیا، جس پر انہیں بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر واقعہ کو خودکشی قرار دیا جا رہا ہے تاہم حتمی نتیجہ شواہد کے مکمل جائزے کے بعد ہی سامنے آئے گا، واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ تفتیش اور تحقیق کے عمل کو انتہائی غیرجانبدار اور شفاف بنایا جائے، جلد ہی ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد