سہراب گوٹھ، گھر سے افغان خاتون و 3 بچوں کی پھندا لگی لاشیں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
سہراب گوٹھ،(نیوزڈیسک)بچوں کی عمر 2، 4 اور 8 سال کے درمیان ہیں جبکہ چاروں لاشیں پھندا لگی ہیں، حکام۔رپورٹ کے مطابق ریسکیو حکام نے بتایا کہ گھر سے 4 لاشیں ملیں جن میں سے ایک لاش خاتون اور 3 بچوں کی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ بچوں کی عمر 2، 4 اور 8 سال کے درمیان ہیں جبکہ چاروں لاشیں پھندا لگی ہیں اور بظاہر معاملہ خود کشی کا لگ رہا ہے، مرنے والوں میں 30 سال کی فاطمہ، 10سال کی سونم، 3سال کی آرزو اور 2سال کا ارمان شامل ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کے شوہر کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور معاملے کی تفتیش جاری ہے، شوہرکے بیان کے مطابق واقعہ گھریلو جھگڑے کے باعث پیش آیا۔
پولیس کے مطابق مرنے والی خاتون کا تعلق افغانستان سے ہے جبکہ شوہر نجیب اللہ کا تعلق لیہ سے ہے، نجیب اللہ سبزی منڈی میں کام کرتا ہے اور اس نے افغان خاتون سے دوسری شادی کی تھی۔
وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے سہراب گوٹھ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ایسٹ سے رابطہ کیا، جس پر انہیں بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر واقعہ کو خودکشی قرار دیا جا رہا ہے تاہم حتمی نتیجہ شواہد کے مکمل جائزے کے بعد ہی سامنے آئے گا، واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ تفتیش اور تحقیق کے عمل کو انتہائی غیرجانبدار اور شفاف بنایا جائے، جلد ہی ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔