زیلنسکی ٹرمپ ملاقات سے قبل یوکرین پر روسی میزائیلوں کی بارش، کیف لرز اٹھا
اشاعت کی تاریخ: 28th, December 2025 GMT
روسی افواج نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر علاقوں پر میزائلوں اور ڈرونز سے بڑے پیمانے پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور 46 زخمی ہو گئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق حملوں میں تقریباً 500 ڈرونز اور 40 میزائل استعمال کیے گئے، جن سے کیف کے مختلف علاقوں میں بجلی اور توانائی کا نظام متاثر ہوا۔ دارالحکومت میں تقریباً 10 گھنٹے تک فضائی حملے کا الرٹ جاری رہا۔
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ توانائی کے متعدد مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث لاکھوں گھروں کو بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی، جبکہ شدید سرد موسم میں 40 فیصد سے زائد رہائشی عمارتیں ہٹننگ سسٹم سے محروم رہیں۔
صدر زیلنسکی نے ان حملوں کو امریکہ کی ثالثی میں جاری امن کوششوں کا جواب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ روس نے واضح کر دیا ہے کہ وہ مذاکرات کو کس طرح دیکھتا ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب زیلنسکی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے فلوریڈا جا رہے ہیں، جہاں جنگ کے خاتمے، سکیورٹی ضمانتوں اور علاقائی کنٹرول پر بات چیت متوقع ہے۔
دوسری جانب روسی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ماسکو کی جانب آنے والے آٹھ یوکرینی ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام نے مار گرایا ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق جنگ کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ مشرقی یوکرین کے علاقے ڈونیسک اور زاپوریزیا کے جوہری پلانٹ کا مستقبل ہے۔ تاہم ایک مجوزہ امن منصوبے پر دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔