پاتھ فائنڈر گروپ کے کو چیئرمین اکرام سہگل نے کہا ہے کہ ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان پہلا ملک ہے جو اپنے نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے منفرد اسٹارٹ اپس آئیڈیاز دنیا کے سامنے پیش کررہا ہے۔

مقامی ہوٹل میں پاتھ فائنڈر گروپ کے تحت منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ پاتھ فائنڈر گروپ جنوری میں ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان کے سات منتخب اسٹارٹ اپس پیش کرے گا، جبکہ وزیر اعظم پاکستان اور وفاقی وزیر خزانہ بھی فورم میں شرکت کریں گے۔

اکرام سہگل کے مطابق پہلی مرتبہ ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر قوالی اور پاکستانی نائٹس کا انعقاد بھی کیا جائے گا تاکہ پاکستان کے مثبت اور تخلیقی تشخص کو اجاگر کیا جا سکے۔

اکرام سہگل نے کہا کہ مالیاتی خدمات کا دائرہ وسیع کر کے ملک میں غربت میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور پاتھ فائنڈر گروپ جدت، تخلیقی صلاحیتوں اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ذریعے پاکستان کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گروپ نوجوانوں کو ان کی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پلیٹ فارمز فراہم کر رہا ہے۔

کانفرنس میں پالیسی سازوں، صنعت کے رہنماؤں، ٹیکنالوجی ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔

تقریب میں سماجی ترقی، بین المذاہب ہم آہنگی، ڈیجیٹل تبدیلی اور مالی شمولیت جیسے اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

تقریب کی صدارت چیئرمین پاتھ فائنڈر گروپ زَرّار سہگل نے کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ہما بقائی، ریکٹر مائی ٹی ای اور وائس چیئرپرسن کراچی کونسل آن فارن ریلیشنز (KCFR) نے انجام دیے۔

پروگرام دو سیشنز پر مشتمل تھا جن میں کلیدی خطابات اور سرکاری و نجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے معزز مقررین کی خصوصی پریزنٹیشنز شامل تھیں۔ پہلے سیشن کی مہمانِ خصوصی چیئرپرسن KCFR م نادرہ پنجوانی تھیں۔ سیشن کا آغاز ڈاکٹر ہما بقائی کے ابتدائی کلمات سے ہوا، جس کے بعد زَرّار سہگل نے استقبالیہ خطاب کیا۔

بریگیڈیئر (ر) مجاہد عالم، سی ای او اینہانسڈ ہارمونی ڈویژن (EHD) نے پاتھ فائنڈر گروپ کے فلیگ شپ سماجی منصوبوں پر روشنی ڈالی اور تعلیم، غربت میں کمی، خاندانی فلاح اور بین المذاہب ہم آہنگی میں ان کے مجموعی اثرات کو اجاگر کیا۔ اس موقع پر اماںی سہگل، بانی پروویڈینشیا بکس فاؤنڈیشن، اور ایلینا سہگل، بانی پاتھ فائنڈر انٹرفیتھ ہارمونی انیشی ایٹو (PIHI) نے بھی پریزنٹیشنز پیش کیں۔

اپنے کلیدی خطاب میں نادرہ پنجوانی نے جامع سماجی ترقی اور پائیدار فلاحی ماڈلز کی اہمیت پر زور دیا، دوسرے سیشن کے مہمانِ خصوصی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فنانشل انکلوژن سید باسط علی تھے۔

ڈاکٹر ہما بقائی نے ڈیووس میں پاکستان پویلین میں پاکستان کی شرکت سے متعلق نکات پیش کیے۔ اس کے بعد شکیل احمد، سی ای او ڈیجیٹل ریولوشن ڈویژن (DRD) اور ایس ایم ایس سروسز (پرائیویٹ) لمیٹڈ نے پاتھ فائنڈر گروپ کے ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں پر بریفنگ دی، جن میں مصنوعی ذہانت (AI) اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) پر مبنی حل شامل تھے، جو مختلف شعبوں میں کارکردگی، سیکیورٹی اور مسابقت بڑھانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

ایئر وائس مارشل (ر) اسد اکرام، صدر CITADEL نے اپنے کلیدی خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کے انسانی سرمائے کو اختراع، ٹیکنالوجی اور قیادت کی ترقی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا وقت کی ضرورت ہے، جس کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔

انہوں نے مہارتوں کی ترقی، اسٹارٹ اپ ایکسیلیریشن اور اسٹریٹجک کنسلٹنگ میں CITADEL کے کردار کو اجاگر کیا، جن میں پاکستانی اسٹارٹ اپس کو عالمی فورمز پر بین الاقوامی نمائش کے مواقع فراہم کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

محمد سلمان علی، سی ای او ورچوئل ریمیٹینس گیٹ وے (VRG) نے پیش کیے، جنہوں نے مالیاتی خدمات میں جدت، ڈیجیٹل ادائیگیوں اور غیر بینک شدہ آبادی کو بینکاری نظام میں شامل کرنے سے متعلق اقدامات پر گفتگو کی۔

اپنے کلیدی خطاب میں سلیم اللہ نے مالی شمولیت، ڈیجیٹل فنانس اور ذمہ دارانہ اختراع کے لیے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ریگولیٹری وژن سے آگاہ کیا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل میں پاکستان اسٹارٹ اپس پاکستان کے کلیدی خطاب کو اجاگر سہگل نے کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا