جدید ٹیکنالوجی سے پانی کی حفاظت یقینی بنائی جاسکتی ہے ،ڈاکٹراشرف
اشاعت کی تاریخ: 29th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر )پاکستان میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت، موسمیاتی تبدیلیوں اور زرعی نظام پر دبائو جیسے سنگین مسائل کے حل کے لیے ‘واٹر ریسورس اکائوٹیبلٹی ان پاکستان (WRAP) پروگرام کے تحت کراچی سمیت سندھ اور بلوچستان کے صحافیوں کے لیے خصوصی معلوماتی دورے کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (IWMI) پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر محمد اشرف نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام (17 ملین ہیکٹر) کے باوجود پانی کے ضیاع اور قلت کا شکار ہے، جہاں پانی کے استعمال کی مجموعی کارکردگی 40 فیصد سے بھی کم ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجیز اور سائنسی ڈیٹا کے ذریعے ہی پاکستان میں پانی کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور ضیاع روکاجاسکتا ہے۔ ڈاکٹر محمد اشرف نے انکشاف کیا کہ ملک میں زیرِ زمین پانی 90 فیصد گھریلو اور 100 فیصد صنعتی ضروریات پوری کر رہا ہے، جبکہ ڈیموں میں مٹی بھرنے سے سالانہ 0.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پانی کی
پڑھیں:
بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
تصویر سوشل میڈیا۔پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
لاہور ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے۔
بارش رکنے کے بعد ایم ڈی واسا نے تمام انڈر پاس کلیئر کر دینے کا دعویٰ کیا، بارش کے باعث نناوے فیڈرز بھی متاثر ہوئے، بحالی کا کام جاری ہے، ڈیفنس میں بارش کے پانی میں ایک منچلا کشتی لے آیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں میں کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے۔ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، بارشوں کے باعث 38 مکانات جزوی طور پر متاثر ہوئے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شہریوں سے گزارش ہے موسم برسات میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔